مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم آزاد کشمیر اور اپوزیشن لیڈر کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اختتام پذیر ہو گئی۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد مرتب کی جا رہی ہے جسے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق کل قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے جہاں اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں اور سفارشات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کور ممبرعوامی ایکشن کمیٹی نے الحاق پاکستان کے نظریاتی لوگوں کو غدار قراردیا ،عبدالحمید لون کا انکشاف
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے کہا کہ کانفرنس انتہائی خوشگوار اور مثبت ماحول میں منعقد ہوئی۔
ان کے بقول متعدد اہم نکات پر شرکاء کے درمیان اتفاق رائے پایا گیا اور کسی قسم کا ابہام موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب باضابطہ اعلانات جاری ہوں گے تو تمام معاملات عوام کے سامنے آ جائیں گے۔
سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ اے پی سی کی میزبانی وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کر رہے تھے اور وہ پہلے دن سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ قانون سازی کا اختیار صرف قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی ایک مقدس اور بااختیار ادارہ ہے اور قانون سازی کا حق اسی کے پاس ہے، کسی دوسرے فریق کو اس پر ڈکٹیشن دینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شہری کو ہراساں کرنے پر ہائیکورٹ برہم، تفتیشی افسر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان، سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، سیکرٹری جنرلز اور مذہبی و سیاسی شخصیات شریک تھیں۔ ان کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا
انہیں چاہیے تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر اپنے مؤقف اور مطالبات پیش کرتے۔ سردار تنویر الیاس نے کہا کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین میں وقتاً فوقتاً اصلاحات اور تبدیلی کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
شاہ غلام قادر نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں پہلے بھی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی خواہش رکھتی تھیں تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت جمہوری نظام پر یقین نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کو انتخابی سیاست میں حصہ لینے اور الیکشن لڑنے کی دعوت بھی دی گئی تھی لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔




