کور ممبرعوامی ایکشن کمیٹی نے الحاق پاکستان کے نظریاتی لوگوں کو غدار قراردیا ،عبدالحمید لون کا انکشاف

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)حریت رہنما عبدالحمید لون نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ایکشن کمیٹی کے ایک کور ممبر نے مجھے میئر مظفرآباد نثار گیلانی کے آفس میں ان کے سامنے کہا کہ آپ الحاق پاکستان والے لوگ غدار ہیں اور یہ بات کہتے ہوئے کور کمیٹی کا نام نہاد ممبر دروازے سے باہر نکل گیا ۔

عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ مجھے ان کی یہ بات سنتے ہوئے بڑا افسوس ہوا کہ اگر اس شخص کی یہ سوچ ہے تو اپنی محفلوں میں یہ میرے محسن ملک پاکستان کے متعلق مذید کیا کیا سوچتے ہوں گے ۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکراتی ٹیم کا حصہ اور وفاقی حکومت کے نمائندگان کے ساتھ مزاکرے میں ہم ان سے خیر کی کوئی توقع نہ رکھیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شہری کو ہراساں کرنے پر ہائیکورٹ برہم، تفتیشی افسر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

38 مطالبات کے بعد ان کا مطالبہ حریت کانفرنس اور پاکستان کے ہمدردوں، محافظوں کا آزاد جموں کشمیر میں بے دخلی کا بھی ہوسکتا ہے ۔

لحاظ آزاد جموں کشمیر کے غیور عوام اور حکومت و ریاست کے ادارے ایسی سوچ اور اس قسم کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی حکمت عملی آج سے ہی مرتب کرلیں ۔

چونکہ دشمن بھارت یہی چاہتا ہے کہ آزاد جموں کشمیر میں افرا تفری اور انتشار پیدا ہو تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کیا جائے۔۔

آزاد کشمیر میں انتشار پیدا کرنیوالے واقعات کا الزام پاکستان پر ڈال کر دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں اصل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی ۔پاکستان سے الحاق کا مؤقف رکھنے والوں کو غدار قرار دینا درست نہیں۔

کسی بھی ریاست کا اپنے جغرافیائی، نظریاتی یا سیاسی نظریے کے تحت کسی دوسرے ملک کے ساتھ الحاق یا الحاق کی خواہش کا اظہار ایک جمہوری سیاسی حق ہے۔

دنیا بھر کی سیاسی تاریخ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت، کسی بھی خطے کے عوام کو اپنے مستقبل اور الحاق کا فیصلہ کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ ایک طویل تاریخی اور سیاسی جدوجہد کا حصہ ہے۔

کشمیری عوام کی جانب سے 19 جولائی 1947ء کو منظور کی گئی قرار دادِ الحاقِ پاکستان کو غداری کے بجائے ان کے حقِ خودارادیت کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔

لہذا، سیاسی وابستگی یا الحاق کی رائے رکھنا غداری کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ مختلف سیاسی، نظریاتی اور جمہوری نظریات کا حصہ ہے۔

19 جولائی 1947 کو سری نگر میں سردار ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر الحاق پاکستان کی قرار داد منظور ہوئی چھ لاکھ سے زائد کشمیری شہداء کی قربانیاں تقاضا کرتی ہیں کہ ہم تکمیل پاکستان کی جدوجہد میں مزید قربانیاں دینے سے بھی کسی قسم کا دریغ نہیں کریں گے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی ایماء پر بھونکنے والا ’’باہوت بلوچ‘‘ اکاؤنٹ ہمیشہ کیلئے ٹوئٹر سے فارغ

آزاد کشمیر میں بے امنی، انتشار اور افواہیں پھیلانے کے لیے بھارتی پروپیگنڈا اور فیک نیوزکا طریقہ کار باقاعدہ ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔

بھارت کشمیریوں کو تقسیم کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہا ہے جہاں ایک خطیر مقدار میں رقم بھی مختص کی گئی ہے ۔

آزاد جموں و کشمیر میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے اس طرح کے شواہد سامنے آتے رہے ہیں۔

بھارتی خفیہ ایجنسیاں خطے میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کیلئے مقامی عناصر کو استعمال کرتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی ایجنسیاں مقامی افراد کی معاشی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر خطیر رقوم کی پیشکش کرتی ہیں۔

تاکہ انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں، تخریب کاری اور احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔