ترقی

مہاجر نمائندگی کا خاتمہ آئینی و تاریخی ناانصافی،مسئلہ کشمیر بھی متاثر ہوگا، جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کونسل

آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق جاری بحث میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اس معاملے پر تشکیل دی گئی ہائی پاور کمیٹی کو تفصیلی آئینی و قانونی دستاویزات موصول ہو گئی ہیں۔

جموں اینڈ کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس نے موقف اختیار کیا ہے کہ مہاجر نمائندگی کا خاتمہ نہ صرف آئینی و تاریخی ناانصافی ہوگا بلکہ یہ مسئلہ کشمیر سے متعلق موجودہ قانونی اور سفارتی موقف کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ای سی سی اجلاس، دانش سکولوں، کشمیری مہاجرین کیلئے اربوں روپے منظور

چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کو ’جموں اینڈ کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس‘ کی جانب سے ارسال کردہ دستاویزات میں 12 مہاجر نشستوں سے متعلق تفصیلی سفارشات شامل کی گئی ہیں، جو ہائی پاورڈ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں زیر غور آئیں گی۔

کونسل نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سوالات کا بھی پیرا وائز جواب دیتے ہوئے مہاجر نشستوں کے خاتمے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

کونسل کے مطابق مہاجر نشستیں مسئلہ کشمیر کے غیر حل شدہ ہونے کا آئینی اظہار ہیں اور آزاد کشمیر صرف موجودہ جغرافیائی حدود نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کا عبوری نمائندہ ڈھانچہ ہے۔

مہاجر حلقے ریاست جموں و کشمیر کی وحدت اور حق خودارادیت کی علامت ہیں، جبکہ مہاجر ریاستی باشندگان کو ایک محفوظ آئینی طبقہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ مہاجر نمائندگی کا خاتمہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہوگا اور یو این سی آئی پی فریم ورک سمیت بین الاقوامی حوالہ جات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

دستاویز میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستانی شہریت کے باوجود ریاستی باشندگی ختم نہیں ہوتی، جبکہ اس نمائندگی کے خاتمے سے سیز فائر لائن کے دونوں اطراف بداعتمادی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:الیکشن شیڈول مہاجرین نشستوں سے مشروط کرنے کی خبریں بے بنیاد، الیکشن کمیشن

جموں اینڈ کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد مہاجر نشستوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہےاور محض عددی اکثریت کی بنیاد پر ان نشستوں کو ختم کرنا سیاسی بے دخلی کے مترادف ہوگا۔

تنظیم نے انتخابی اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے مہاجر نمائندگی کے خاتمے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

دستاویزات میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مہاجر نمائندوں کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور انہیں باقاعدہ حق شنوائی فراہم کی جائے۔