ایران نے امریکا کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو فیصلہ کن موڑ اور اہم، حساس مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچنے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان اور قطر سفارتی کوششوں میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ اس مرحلے پر جوہری معاملات کی تفصیلات زیر بحث نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران امریکہ امن معاہدے کیلئے متحرک، دنیا کی نظریں پاکستان پر جم گئیں
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ و مذاکراتی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران میں اس وقت سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے تاکہ امریکا کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ موجودہ عمل اور تہران میں اعلیٰ پاکستانی حکام کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم ایک فیصلہ کن یا انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مذاکرات کسی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق مذاکرات کا بنیادی محور جنگ کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ثالثی کردار ادا کر رہا ہے جب کہ قطری وفد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مسلسل رابطے اور بات چیت میں مصروف ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے اور نمایاں نوعیت کے ہیں، اس لیے چند ملاقاتوں، ہفتوں یا مہینوں کی بات چیت کے بعد کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق سفارت کاری ایک وقت طلب عمل ہے اور فریقین کو صبر و تحمل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
جوہری مذاکرات کے حوالے سے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس مرحلے پر تفصیلات منظر عام پر نہیں لا رہا کیونکہ ماضی میں ایسا کرنے کے تلخ نتائج سامنے آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران ،امریکہ مذاکرات، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے
انہوں نے کہا کہ ہم یہ تجربہ دو مرتبہ کر چکے ہیں جو ہمیں جنگ کی طرف لے گئی، اس تجربات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران این پی ٹی (نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی) کا رکن ہے اور اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا مکمل حق حاصل ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق اگر مذاکرات کو انتہائی افزودہ یورینیم جیسے حساس معاملات کی تفصیلات میں الجھایا گیا تو کسی نتیجے تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔




