سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے عید الاضحیٰ 2026 کے بابرکت موقع پر نقد رقم کے خطرات سے بچنے اور محفوظ لین دین کیلئے ملک گیر سطح پر ”گو کیش لیس“ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت شروع کی گئی اس منفرد مہم کا بنیادی مقصد ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں روایتی نقد رقم کے بجائے آسان، محفوظ اور ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کو فروغ دینا ہے۔
سٹیٹ بینک کے حکام کے مطابق عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر غیر معمولی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جن میں سے اکثر اب تک صرف نقد لین دین پر ہی انحصار کرتی آئی ہیں۔ لین دین کے اس بہت بڑے حجم کو دیکھتے ہوئے اور ملک میں ڈیجیٹل مالی شمولیت کو بڑھانے کے لیے سٹیٹ بینک پچھلے چند برسوں سے اس سرگرمی کو مسلسل فروغ دے رہا ہے تاکہ اس موسمی روایت کا بھرپور فائدہ اٹھا کر مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کے جدید طریقوں کو رواج دیا جا سکے۔ اس حوالے سے مروجہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مہموں کی شاندار کامیابی کی بنیاد پر سال 2026 میں اس ڈیجیٹل اقدام کو نمایاں وسعت دی گئی ہے۔ گزشتہ سال اس اہم مہم میں ملک بھر کی صرف 54 مویشی منڈیاں شامل تھیں، جن کی تعداد بڑھا کر اس سال ریکارڈ 96 اہم منڈیوں تک پہنچا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے کرنسی نوٹ آنے میں تاخیر،منظوری وفاقی کابینہ دے گی،گورنراسٹیٹ بینک
بیوپاریوں کیلئے اکاؤنٹس اور کیو آر کوڈ کی سہولیات:
مرکزی بینک نے بتایا کہ اس بار ‘گو کیش لیس‘ مہم کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیاں انتہائی آسان بنانے کے لیے ملک کے 22 نامزد شریک کار بینک مقررہ مویشی منڈیوں میں اپنے خصوصی معلوماتی کیمپ اور کیاسک قائم کریں گے تاکہ دور دراز سے آنے والے بیوپاریوں اور خریداروں کو موقع پر فوری سہولت مل سکے۔ یہ تمام شریک بینک منڈیوں میں مویشی فروخت کرنے والے بیوپاریوں، مال بردار ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ خدمت فراہم کرنے والوں کو فوری بینک اکاؤنٹ کھولنے اور جدید کیو آر کوڈ کی بنیاد پر ادائیگی کے طریقوں کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کے چینلز پر شامل کریں گے تاکہ خریدار اپنے موبائل سے ہی رقم منتقل کر سکیں۔
اکاؤنٹ بیلنس کی حد میں نرمی اور موبائل اے ٹی ایمز کا قیام:
عید سعید کے اس خاص موقع پر منڈیوں میں لین دین کی بلند سطح کو سہل اور ممکن بنانے کے لیے سٹیٹ بینک نے صارفین کے روزمرہ لین دین اور اکاؤنٹ بیلنس کی مقررہ حد میں عبوری نرمی بھی متعارف کروا دی ہے۔ اس خصوصی رعایت کا اطلاق 14 مئی 2026 سے لے کر 5 جون 2026 تک مستقل رہے گا تاکہ بیوپاری بڑی رقم بھی آسانی سے وصول کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں بھی ممکن ہو، مویشی منڈیوں اور ان منڈیوں کے قریبی تجارتی علاقوں میں مالی خدمات تک فوری رسائی بہتر بنانے کے لیے بینکوں کی مخصوص موبائل بینکنگ وین، عارضی اے ٹی ایم اور کیش ڈپازٹ مشینیں (سی ڈی ایم) بھی نصب کی جائیں گی۔ سٹیٹ بینک نے عام عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بڑی نقدی ساتھ رکھنے کے سیکیورٹی خطرات سے بچنے کے لیے اپنی موبائل بینکنگ ایپس اور ’راست‘ آئی ڈی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ قومی مالی نظام میں شفافیت اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔



