پاکستان کی زبردست سفارتی کامیابیوں کے آگے بھارت بالآخر گھٹنوں پر آ گیا ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اہم ترین سالانہ اجلاسوں سمیت انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے فائنل معرکے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کو بھارت کی جانب سے باقاعدہ دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے۔
پاک بھارت کشیدہ سفارتی اور کرکٹ تعلقات کے باعث محسن نقوی کی بھارت روانگی اب بھی شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور ان کی احمد آباد آمد کا حتمی فیصلہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سیاسی مشاورت کے بعد کریں گے۔
اجلاسوں کا شیڈول اور مقام کی متنازع تبدیلی:
کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق آئی سی سی کے یہ اہم ترین اجلاس رواں ماہ مئی میں دو مختلف مرحلوں میں منعقد ہوں گے۔ طے شدہ شیڈول کے تحت چیف ایگزیکٹو کمیٹی کا ورچوئل اجلاس 21 مئی کو منعقد کیا جائے گا، جبکہ سب سے اہم اور فیصلہ کن فزیکل بورڈ میٹنگ 30 اور 31 مئی کو بھارت کے شہر احمد آباد میں ہو گی۔ یہ اجلاس ابتدائی طور پر دوحہ، قطر میں منعقد ہونا تھے، لیکن خلیجی خطے میں جاری شدید کشیدگی اور غیر یقینی اسٹرٹیجک حالات کے باعث آئی سی سی نے آخری لمحات میں اس کا مقام تبدیل کر کے بھارت منتقل کر دیا۔ مقام کی اس اچانک تبدیلی نے پی سی بی اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے مابین جاری سرد جنگ کو ایک بار پھر برانگیختہ کر دیا ہے اور کرکٹ حلقوں میں اس پر گہری بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم سے محسن نقوی کی ملاقات،پی ایس ایل فائنل کیلئے بہترین انتظامات پر تبادلہ خیال
محسن نقوی پر کثیر الجہتی دباؤ اور کرکٹ سیاست:
پی سی بی چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ محسن نقوی اس وقت پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر بھی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی اس اجلاس میں موجودگی انتہائی اہم سمجھی جا رہی تھی، مگر بھارت کے مخاصمانہ روّیے کے باعث ان کے اس دورے پر کئی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ حال ہی میں ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی بھی بھارتی ٹیم نے حاصل نہیں کی ہے جس سے تعلقات میں تناؤ واضح ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش اور آئی سی سی کے مابین پیدا ہونے والے حالیہ تنازع میں مبینہ پسِ پردہ کردار پر بھی سوالات اٹھے ہیں، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نے 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے معاملات سے دستبرداری اختیار کی تھی، ان تمام حالات کے باعث محسن نقوی کو اس وقت کثیر الجہتی دباؤ کا سامنا ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا مستقبل اور نیا فارمیٹ:
احمد آباد میں ہونے والے ان عالمی اجلاسوں میں کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے دور رس نتائج کے حامل فیصلے متوقع ہیں، جس میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے موجودہ فارمیٹ میں بڑی تبدیلیاں زیرِ بحث آئیں گی۔ موجودہ قانون کے مطابق ہر باہمی سیریز میں کم از کم 2 ٹیسٹ میچز کھیلنا لازمی ہیں، لیکن اب ایک ٹیسٹ میچ کی سیریز کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اس میں زمبابوے، آئرلینڈ اور افغانستان جیسی ابھرتی ہوئی نئی ٹیموں کو شامل کرنے کی تجویز پر تفصیلی مشاورت ہوگی۔ اگرچہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے مجموعی ڈھانچے پر تفصیلی گفتگو ہوگی، تاہم ماہرین کے مطابق اس اجلاس میں کسی حتمی اور فوری فیصلے کا امکان کم ہے۔
دورہ بھارت کا سیاسی چیلنج اور سفارتی آداب:
واضح رہے کہ محسن نقوی کو موصول ہونے والا یہ دعوت نامہ محض ایک کھیل کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اور سفارتی چیلنج بھی بن چکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بی سی سی آئی مسلسل پاکستان کا دورہ کرنے سے انکاری ہے، پی سی بی چیئرمین کا آئی پی ایل فائنل دیکھنے بھارت جانا ملکی کرکٹ شائقین میں شدید غصے کا سبب بن سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ اب موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے یا یہ ایک بڑی مشاورت سے طے پائے گا۔ تاہم قرائن بتاتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان محسن نقوی کو صرف آئی سی سی کے آفیشل سیشنز میں شرکت کی اجازت دے سکتی ہے، جبکہ آئی پی ایل فائنل کی دعوت کو سفارتی آداب کے تحت نظر انداز کیا جا سکتا ہے تاکہ بی سی سی آئی کے سخت رویے کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ اس اہم دورے کے حوالے سے پی سی بی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے اگلے سیزن میں نئے مقامات کو بھی شامل کریں گے تاکہ ملکی کرکٹ کو مزید فروغ دیا جا سکے۔



