ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات میں فریقین کے درمیان ایران کے دنیا بھر میں موجود اثاثے ’ڈی فریز‘ کرنے پر بھی اختلاف رہا، جو تہران کا سب سے اہم مطالبہ ہے۔
حالیہ مذاکرات میں امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو سب سے اہم مسئلہ قرار دے رہا ہے جب کہ ایران کے لیے سب سے اہم مسئلہ اس کے منجمد اثاثے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کے مابین پیغامات کا تبادلہ،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کی ملاقات کا پہلا دور مکمل
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے نزدیک ان اثاثوں کی بحالی کوئی ’اضافی رعایت‘ نہیں ہےبلکہ یہ خالصتاً ایران کا حق ہے۔
اسماعیل بقائی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسلام آباد مذاکرات میں سینٹرل بینک آف ایران کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے تھے۔
امریکا ایران مذاکرات سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ میز پر بیٹھنے کے لیے ایران کے غیر ملکی بینکوں میں منجمد اثاثوں کی بحالی لازمی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے بھی یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ واشنگٹن نے ابتدائی طور پر قطر میں موجود 6 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم امریکا نے اس کی تردید کی اور مذاکرات میں فریقین کے درمیان اس نکتے پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔
جب کسی شخص، کمپنی یا ملک کے مرکزی بینک کے فنڈز، جائیداد، یا سیکیورٹیز کو کسی دوسرے ملک کی حکومت یا عالمی ادارے کی جانب سے عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے تو اسے اثاثے منجمد کرناکہتے ہیں۔
پابندیوں، عدالتی احکامات یا دیگر وجوہات کی بنا پر ان اثاثوں کا اصل مالک انہیں فروخت کرنے یا استعمال کرنے کا اختیار کھو دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے چینی سٹیلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، فاننشل ٹائمز کا انکشاف
ایرانی میڈیا کی رپورٹس اور عالمی ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی کل مالیت 100 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
ان اثاثوں میں سب سے بڑی رقم تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن ہے جو ایران کی ملکیت ہے لیکن امریکی پابندیوں کے باعث اسے ایران منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ اثاثے 47 سال سے مختلف ممالک میں نقد رقم، رئیل اسٹیٹ اور جائیدادوں کی صورت میں موجود ہیں۔
ایران کے اثاثے پہلی بار نومبر 1979 میں منجمد کیے گئے۔ اسلامی انقلاب کے بعد 4 نومبر کی صبح ایرانی طلبہ کے ایک گروہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔
اس گروہ کا مطالبہ تھا کہ امریکا ایران کے مفرور بادشاہ رضا شاہ پہلوی کو ایران کے حوالے کرے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔
اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے اسی واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے صدارتی حکم نامے کے تحت امریکی بینکوں میں موجود ایران کے تقریباً 8 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دئیے تھے۔
دو سال بعد ’الجزائر معاہدے‘ کے تحت ایران کو صرف 3.6 ارب ڈالر واپس مل سکے، جب کہ باقی رقم امریکی کمپنیوں کے دعوؤں کی مد میں روک لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی جنگ بندی کیلئے کوشش قابل تعریف،مذاکرات جلد اسلام آباد میں ہونگے، وائٹ ہائوس کی تصدیق
امریکا نے ایران کی صورت حال اور حکومت کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے نہ صرف ایران کے اثاثے منجمد کیے بلکہ بین الاقوامی بینکوں اور تجارتی کمپنیوں کو بھی ایران سے تعلقات توڑنے پر مجبور کیا تھا۔
امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے منجمد اثاثوں کا حجم تیزی سے بڑھتا گیا۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی مالیت اب 100 سے 120 ارب ڈالر کے درمیان پہنچ چکی ہے۔
یہ رقوم مختلف ممالک کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں موجود ہیں، تاہم امریکی پابندیوں اور قانونی رکاوٹوں کے باعث ایران ان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔
سال 2015 میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے دوران ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں تک محدود رسائی ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔
اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے ایک انٹرویو میں پہلے ایران کے منجمد اثاثوں کا تخمینہ تقریباً 100 ارب ڈالر بتایا تھا، تاہم بعد میں وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے اور ان اثاثوں کو 50 سے 60 ارب ڈالر کے درمیان قرار دیا تھا۔
جولائی 2015 میں اوباما حکومت میں امریکا کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران کو اپنے 50 سے 60 ارب ڈالر کے اثاثوں تک عارضی رسائی ملی تاہم یہ ریلیف دیرپا ثابت نہیں ہوسکا تھا۔
مئی 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرکے مزید پابندیاں عائد کردیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ایران سے معاہدے کے لیے پاکستان آنے کے خواہشمند، حامد میر نے بڑی خبر بریک کر دی
ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر کرنے کی کوشش کی گئی اور جو اثاثے بحال ہوئے تھے انہیں دوبارہ منجمد کر دیا گیا۔
امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران نے حیران کُن حکمت عملی اپنائی اور بین الاقوامی بینکاری نظام پر پابندی سے بچنے کے لیے ’کرپٹو کرنسی‘ کا استعمال شروع کردیا۔
ایران نے کرپٹو کرنسی کی مائننگ شروع کی جس سے وہ امریکی نگرانی کے بغیر سالانہ کروڑوں ڈالر کی بین الاقوامی تجارت کے قابل ہو گیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اِس وقت امریکا، چین، عراق اور جاپان سمیت کئی ممالک میں ایران کے منجمد شدہ اثاثے موجود ہیں۔
ایران کے تقریباً 2 ارب ڈالر کے اثاثے صرف امریکا میں منجمد ہیں، جبکہ مزید 50 ملین ڈالر کے لگ بھگ رقم امریکی رئیل اسٹیٹ اور اس سے حاصل ہونے والے کرائے کی مد میں واجب الادا ہے۔
چین میں ایران کے تیل کی آمدنی کے تقریباً 22 سے 30 ارب ڈالر ’ایسکرو اکاؤنٹس‘ میں موجود ہیں جب کہ جنوبی کوریا سے قطر منتقل ہونے والے 6 ارب ڈالر بھی رکے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ جاپان، بھارت اور یورپی ممالک میں بھی ایران کے مرکزی بینک کے ذخائر، تیل سے حاصل ہونے والی آمدن اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے حاصل شدہ رقم منجمد ہے۔
امریکا نے ستمبر 2023 میں ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت قطر میں موجود تقریباً 7 ارب ڈالر کے اثاثوں تک رسائی دی لیکن شرط یہ تھی کہ یہ رقم صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر استعمال ہوگی۔
اکتوبر 2024 میں امریکا کے دباؤ پر قطر نے ان اثاثوں تک ایران کی رسائی دوبارہ روک دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ اور پوپ لیو کی ایک دوسرے پر تنقید ،لفظی جنگ شدت اختیار کرگئی
امریکا نے عراق کو بھی ایران کے 2.7 ارب ڈالرز کی ادائیگی کی اجازت دی تھی لیکن یہ رقم عمان کے بینکوں میں منتقل کی گئی جسے امریکی نگرانی میں خوراک اور ادویات کے لیے استعمال سے مشروط کیا گیا۔
اسی طرح برطانیہ کی جانب سے 40 سال بعد ایران کو ٹینکوں کی خریداری کے عوض ادا کیے گئے 530 ملین ڈالرز بھی عمان میں منجمد کر دیے گئے۔
ایران کے بھارت میں 7 ارب ڈالرز، لکسمبرگ 1.7 ارب ڈالرز موجود ہیں جن پر امریکا نے دعویٰ کر رکھا ہے جب کہ جاپان میں بھی اس کے 1.5 ڈالرز پابندیوں کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ یورپی یونین نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور یوکرین جنگ میں روس کو ڈرونز فراہم کرنے کے الزامات پر ایران کے مرکزی بینک کے اثاثے جزوی طور پر منجمد کر رکھے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران کو اس وقت ان منجمد شدہ اربوں ڈالرز تک رسائی مل جائے تو نہ صرف معیشت کو فوری سہارا مل سکتا ہے بلکہ ملک میں جاری مالی اور سماجی دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔




