اسلام آباد: سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ تاریخی معاہدے کے لیے خود پاکستان آنے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم اس اہم دورے اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایک بڑی شرط سامنے آگئی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ‘جیو پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے بتایا کہ یہ معلومات چینی سفارتی ذرائع سے موصول ہوئی ہیں کہ چین نے صدر ٹرمپ کو اپنے دورہ چین سے قبل ایران کے ساتھ معاملات نمٹانے کی تاکید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’’پاکستان میں ہی رکیں‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صحافی کو اہم ہدایت
حامد میر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونا طے پا چکا ہے، جس کی تصدیق اب خود امریکی صدر نے بھی کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تقریباً تمام نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، جس میں ایران کا یورینیم نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز پر لچک دکھانے جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔ تاہم، ایران نے ایک سخت شرط رکھی ہے کہ وہ لبنان میں سیز فائر (جنگ بندی) تک امریکا کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس پر کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔
سینئر تجزیہ کار نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کے معاملے پر بھی ‘چھکا’ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن لبنان کی صورتحال اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حامد میر نے واضح کیا کہ اس وقت ایسا لگتا ہے جیسے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو امریکی پالیسیوں پر حاوی ہیں، اور اگر ٹرمپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے، تو انہیں نیتن یاہو کے اثر سے نکل کر لبنان کے معاملے پر کوئی ٹھوس ایکشن لینا ہوگا۔




