میرپور پولیس نے 24 گھنٹوں میں منگلا ڈیم سے ملنے والی لاش کا معمہ حل کر لیا، قاتل2سگے بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔قتل میں استعمال ہونے والا سامان بھی برآمد کر لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق واردات کی وجہ خاندانی تنازعہ بنی، ایس ایس پی خرم اقبال نے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: میرپور: چند روز سے لاپتہ نوجوان کی لاش سکھیاں بند سے برآمد
تفصیلات کے مطابق میرپور پولیس نے ایس ایس پی میرپور خرم اقبال کی سربراہی میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے منگلا ڈیم سے ملنے والی نوجوان وقاص الطاف کی لاش کے اندھے قتل کا معمہ صرف 24 گھنٹوں کے اندر حل کر لیا۔
پولیس نے جدید ٹیکنیکل ذرائع اور پیشہ ورانہ تفتیش کی مدد سے مبینہ طور پر قتل میں ملوث دو سگے بھائیوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن کا تعلق نکہ سے ہے۔ پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا سامان بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ایس پی میرپور خرم اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وقاص الطاف کے لاپتہ ہونے کی اطلاع موصول ہونے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تلاش اور تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ اسی دوران نوجوان کی لاش منگلا ڈیم سے برآمد ہوئی، جس کے بعد واقعہ ایک اندھے قتل کی صورت اختیار کر گیا۔
پولیس کے لیے یہ ایک اہم چیلنج تھا کہ قتل میں ملوث ملزمان تک پہنچنے کے لیے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جائیں اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کا جھانسہ: برطانوی خاتون کو بلیک میل کرنیوالا کالعدم ایکشن کمیٹی کا کارندہ گرفتار
ایس ایس پی خرم اقبال کے مطابق ڈی ایس پی سٹی حاجی سکندر اعظم اور ایس ایچ او سٹی فیصل صدیق سمیت پولیس ٹیم نے انتہائی محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنیکل ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا اور بالآخر قتل میں مبینہ طور پر ملوث دونوں سگے بھائیوں عیسی اور رضوان کو ٹریس کرکے گرفتار کر لیا۔
پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والا مچھوا، رسی، تاریں، بلاک اور دیگر متعلقہ سامان بھی برآمد کر لیا ہے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعے کے پیچھے خاندانی تنازعہ وجہ عناد بنا، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تفتیش کو مزید مضبوط اور شواہد کی بنیاد پر مکمل کیا جا سکے۔
ایس ایس پی نے واضح کیا کہ میرپور میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں۔ پولیس جرائم کے خاتمے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے یا جرائم میں ملوث ہو کر قانون سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: شادی سے انکار لڑکی کا بنیادی حق ہے، سپریم کورٹ، قاتل کی نظرثانی درخواست مسترد
انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف تفتیش کو میرٹ اور قانون کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے اور جلد از جلد مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ٹھوس شواہد کی روشنی میں ملزمان کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔
خرم اقبال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا، جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس گشت اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا اور شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔




