شادی سے انکار لڑکی کا بنیادی حق ہے، سپریم کورٹ، قاتل کی نظرثانی درخواست مسترد

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے شادی سے انکار پر خاتون کو قتل کرنے والے مجرم محمد کامران کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شادی کوئی جبری معاہدہ نہیں بلکہ دونوں فریقین کی آزادانہ رضامندی پر مبنی رشتہ ہے، عورت کوئی شے یا مال نہیں جسے زبردستی حاصل کیا جا سکے۔ عدالت نے غاگ، سوارہ، ونی اور وٹہ سٹہ جیسی فرسودہ اور جابرانہ رسومات کو بھی مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایڈہاک ایکٹ کیس: سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشنز سماعتوں کی تاریخیں مقرر

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے پر کسی خاتون کی جان لے لینا انتہائی سنگین جرم ہے اور ایسے واقعات میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔

 عدالت نے واضح کیا کہ عورت کو اپنی زندگی اور شریکِ حیات کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور اس حق سے انکار کو تشدد یا قتل کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

مجرم نے 27 جنوری 2011 کو اسلام آباد کے علاقے نیلور میں لڑکی کو شادی سے انکار کرنے پر قتل کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معاشرے میں رائج بعض فرسودہ اور جابرانہ روایات عورت کی آزادی، عزت اور آزادانہ فیصلے کے حق کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

عدالت نے بالخصوص پختون معاشرے میں رائج رسمِ غاگ، جرگوں کے ذریعے خواتین کو تنازعات کے تصفیے میں دینے کی روایت سوارہ یا ونی، اور وٹہ سٹہ جیسی رسومات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔

فیصلے کے مطابق مرد کی جانب سے عورت پر زبردستی حق جتانے کا فرسودہ تصور کسی ایک علاقے یا سرحد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع سماجی مسئلہ ہے جس کا تعلق عورت کو خودمختار انسان کے بجائے ملکیت سمجھنے کی سوچ سے ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایسی روایات کی نہ صرف مذمت ضروری ہے بلکہ انہیں ختم کرنے کے لیے قانونی اور سماجی سطح پر بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عورت کو مردوں کے درمیان تبادلے کی شے سمجھنے کے تاریخی تصور پر بھی روشنی ڈالی۔

فیصلہ میں ماہرِ بشریات گیل روبن کے معروف مضمون The Traffic in Women کا حوالہ دیا گیا، جس میں عورتوں کو سماجی اور خاندانی نظام کے اندر تبادلے کی شے بنانے کے تصورات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن: نئے عہدیداروں کی کامیابی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری

عدالت نے آلا کاچو اور ٹیلیفا جیسی جبری شادی سے متعلق روایات کا بھی ذکر کیا اور واضح کیا کہ عورت کی رضامندی کے بغیر شادی یا اس پر زبردستی حق جتانے کی سوچ انسانی وقار اور خودمختاری کے منافی ہے۔

فیصلے میں زور دیا گیا کہ عورت کو اپنی زندگی اور شریکِ حیات کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور کسی مرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ انکار کی صورت میں تشدد یا قتل کا راستہ اختیار کرے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام نکاح کے لیے عورت کی آزادانہ رضامندی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

عدالت کے مطابق شادی ایک مقدس رشتہ ہے جو باہمی رضامندی سے قائم ہونا چاہیے نہ کہ دباؤ، جبر یا دھمکی کے ذریعے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی خاتون کی جانب سے شادی سے انکار اس کے بنیادی حق کا حصہ ہے، اس فیصلے کو بنیاد بنا کر اس کے خلاف تشدد کرنا نہ صرف عورت کی آزادی بلکہ قانون اور انصاف کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

مقدمے کے مطابق محمد کامران نے مقتولہ میمونہ شاہین کو اس وقت فائرنگ کرکے قتل کیا جب اس نے اس کے شادی کے پیغام کو قبول نہیں کیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق واقعہ 27 جنوری 2011 کو اسلام آباد کے علاقے نیلور میں مقتولہ کے گھر پیش آیا۔ استغاثہ کے مطابق مجرم نے مقتولہ کے سینے پر فائر کیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

ٹرائل کورٹ نے محمد کامران کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے بھی دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سزا میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں پائی۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا کہ سزائے موت کے ہر قیدی کو محض اس بنیاد پر عمر قید میں رعایت نہیں دی جا سکتی کہ اس نے طویل عرصہ جیل میں گزار لیا ہے۔

عدالت کے مطابق “زندگی کی امید” یا Hope for Life کے اصول سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے مخصوص شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔

فیصلے میں بیان کردہ اصول کے مطابق متعلقہ قیدی کا کم از کم 25 سال قید کاٹنا، کوئی خاص عذر موجود ہونا یا جرم کا انتہائی سنگین نوعیت کا نہ ہونا اہم شرائط ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ عمر قید اور سزائے موت پانے والے قیدیوں کو قانونی طور پر ہر معاملے میں ایک ہی درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔

محمد کامران کے مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ اس کی جانب سے شادی سے انکار کے بعد قتل کا ارتکاب کیا گیا اور جرم کی سنگینی کے پیش نظر سزا میں نرمی کا کوئی جواز موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گھر بیٹھے مفت قانونی مشورہ حاصل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں لیگل کال سینٹر قائم

سپریم کورٹ نے نظرثانی کے دائرہ اختیار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتی ریکارڈ میں کوئی واضح غلطی یا قانونی خامی سامنے نہ آئے تو عدالت اپنے سابقہ فیصلے پر نظرثانی نہیں کر سکتی۔

عدالت نے مجرم کی درخواست میں ایسا کوئی قابلِ قبول جواز نہیں پایا جس کی بنیاد پر پہلے سے برقرار سزائے موت میں تبدیلی کی جا سکے۔چنانچہ محمد کامران کی نظرثانی درخواست مسترد کردی گئی۔