کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، وزیر اعظم افتخار گیلانی

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل )وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر افتخار گیلانی نے کشمیر ڈیجیٹل کو پہلاایکسکلوزیو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہےجبکہ 16ویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ یہ ارتقائی عمل ہے ،13ویں ترمیم میں دئیے گئے اختیارات واپس نہیں لئے جا رہے ہیں۔

  وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے جا رہی صرف ایک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بندی سانحہ پر دکھ، وقت آگیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے، افتخار گیلانی

افتخار گیلانی نے سابق وزرائے اعظم راجہ فاروق حیدرخان ، سردار عتیق احمد خان کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف سیاست میں رہنے کیلئے ایسی باتیں کرتے ہیں۔

اُنہوں نےواضح کیا کہ آزادکشمیر کا کوئی سٹیٹس تبدیل نہیں ہورہا ہے،نا کسی کا ایسا کوئی ارادہ ہے نا کوئی سوچ رہا ہے ، ایسا کوئی سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔

  افتخار گیلانی نے کہا کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے گن پوائنٹ پر ایک ایڈیشنل سیشن جج کو اغواء کر لیا ، اس کے بعدایک ایف سی  اہلکار کو بھی اغواء کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ سٹاف کی کارکردگی بہتر،عوامی شکایات پر توجہ دی جائے،افتخار گیلانی

انہوں نے مزید کہاکہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت ریاست کی بہتری کیلئے دھرنا ختم کرے اورحکومت کو کام کرنے کاوقت دے جوریلیف حکومت پاکستان نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو دیا ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ملا، پتا نہیں اعتماد کا فقدان کیوں ہے ۔