مظفرآباد:ایک فالٹ لائن ایکٹو ،خوفناک زلزلے کا امکان ،آفتاب صدیق کا انکشاف

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)سول سوسائٹی ،سماجی رہنما راجہ آفتاب صدیق نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں شبیر احمد شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 21سال قبل آزادکشمیر میں قیامت خیز زلزلے سے ہر طرف تباہی ہی تباہی تھی ۔

سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہوا۔ سکولوں میں زیرتعلیم بچے عمارتوں کے نیچے دب کر جان جان آفریں کی سپرد کرچکے تھے ۔

راجہ آفتاب صدیق کا کہنا ہے کہ 21سال گزرنے کے باوجود مظفرآباد شہر میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ، 2005میں جو صورتحال تھی وہی صورتحال آج بھی موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں بغیر پلاننگ عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں ۔ ہر طرف دھڑا دھڑ تعمیراتی کام جاری ہے ۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر کا چنار فری ڈائیلائسز سینٹر کا دورہ،طبی سہولیات فراہمی کی یقین دھانی

گزشتہ زلزلے سے تو ستر ، اسی ہزار لوگوں کی جانیں گئیں اور اگراب کوئی ایسا ڈیزاسٹر ہوا تو پھر تین سے چار لاکھ تک جانوں کا نقصان کا اندیشہ ہے ۔

راجہ آفتاب صدیق کا کہنا تھا کہ مظفرآباد شہر میں حکومتی سرپرستی میں ندی نالوں کے اندر تک تعمیراتی صورتحال نے مزید خدشات پیدا کردیئے ہیں ۔ جو کسی بھی وقت فلائی فلڈ کا باعث بن سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر گزشتہ زلزلے کے تقریباً آدھا بھی آگیا تو مظفرآباد کی صورتحال گھمبیر ہوسکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک ترقیاتی منصوبے حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔ 56ارب روپے کے فنڈز میں زیادہ ترفنڈز سیاستی اور اقرباء پروری کے نذر ہوچکے ہیں۔

آفتاب صدیق کا مزید کہنا تھا کہ جاپان نے حکومت آزادکشمیر کو لینڈ پلان دیا تھا اور اس میں بلڈنگ کوڈ کے تحت تعمیرات کی تجویز دی تھی ۔

راجہ آفتاب صدیق کا کہنا تھا کہ مظفرآباد میں ایک فالٹ لائن پر زلزلہ آیا تھا جبکہ دوسری فالٹ لائن ابھی بھی ایکٹو ہے جو کسی بھی وقت متحرک ہوسکتی ہے ۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مظفرآباد گریڈ سٹیشن سے فالٹ لائن شروع ہوتی ہے جو لوہار گلی سے ہوتی ہے ایبٹ آباد اور خیبر پختونخوا تک جاتی ہے جو اسی لائن سے منسلک ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی ماہرین کی پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے پرکڑی تنقید

راجہ آفتاب صدیق کا کہنا تھا کہ یہ فالٹ لائن کسی بھی بڑے ڈیزاسٹر کا موجب بن سکتی ہے کیونکہ یہ لائن ابھی بھی ایکٹو ہے ۔

جاپان نے حکومت کو اوپن لینڈ پلان بھی دیا تھا کہ ان جگہوں پر کسی قسم کی تعمیرات نہیں کرنی یہ ریڈزون ہے کیونکہ اگر خدانخواستہ دوبارہ کسی قسم کا کوئی ڈیزاسٹر ہوتا ہے تو لوگوں کو اوپن جگہ پر اکھٹا کرکے جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینک روڈ پر ایک جیل ہوتی تھی وہاں پرایم ڈی اے کا ایک پلازہ بنا ہوا ہے ۔وہاں ایک بہت بڑا اوپن ایریاتھا جہاں ایم ڈی اے نے ملی بھگت کرکے اوپن لینڈ ختم کرکے تعمیرات کروادیں۔

ساتھراپارک ، گوجرہ نالہ جسے انتہائی خطرناک ایریا قرار دیا تھا وہ لاکھوں کی آبادی قائم کردی اور ہر طرف بستیاں بستیان ہیں، ماکھڑی ،چہالہ  زلزلے کا مرکز ہے وہاں سے گیس کے زخائر بھی ملے تھے پورا علاقہ تعمیرات سے بھر دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی ملی بھگت سے مظفرآبادشہر میں دن بدن آبادی کا ہجوم بڑھتا ہی جارہا ہے ، سرکاری ادارے شکایات پر کچھ دیر کیلئے ایکشن لیتے ہیں جب معاملہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو پھر دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے