رانا تنویر

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبرپختونخوا تک ہی محدود رہے گا:رانا تنویر

وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد نہیں پہنچ سکے گا بلکہ خیبرپختونخوا تک ہی محدود رہے گا۔

شیخوپورہ میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ عوام اب پی ٹی آئی کی حقیقت سے واقف ہوچکے ہیں اور موجودہ لانگ مارچ ان کی جماعت کا آخری لانگ مارچ ثابت ہوگا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ملک میں چینی کا بحران نہیں ، قیمتیں کنٹرول میں ہیں : وفاقی وزیر رانا تنویر کا دعویٰ

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے دوران اپنی جانب سے ہر ممکن لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم اپوزیشن نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں سکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کے معاملے پر مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا مارچ دراصل لانگ مارچ نہیں بلکہ ایک صوبے کی جانب سے وفاق پر چڑھائی کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے وفد کے پاس مکمل اختیار یا مینڈیٹ موجود نہیں تھا۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد صرف لانگ مارچ کو روکنا نہیں بلکہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر مذاکرات میں سہیل آفریدی یا خیبرپختونخوا حکومت کا کوئی بااختیار نمائندہ شریک ہوتا تو بات چیت زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی تھی۔

 ان کے مطابق لانگ مارچ نہ پہلے حکومت کیلئے کوئی بڑا مسئلہ تھا اور نہ اب اسے کسی خاص خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومتی وفد نے مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پی ٹی آئی کے سامنے سات مطالبات رکھے تھے۔

 انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی واضح کرے کہ ان سات مطالبات میں سے کون سا مطالبہ غیر آئینی ہے یا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گونرراج نہیں ایمرجنسی کا آپشن زیرغور ہے، طارق فضل چوہدری

حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور امن و امان کا قیام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔