طارق فضل

خیبرپختونخوا میں گونرراج نہیں ایمرجنسی کا آپشن زیرغور ہے، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں ایمرجنسی نافذ کرنے کا آپشن زیرغور ہے، جس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تو صوبائی اسمبلی برقرار رہے گی جبکہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو وفاق کا نمائندہ ہوگا۔

یہ بھی پڑحیں:پختونخوا میں گنڈاپور کی دوبارہ انٹری؟ بانی پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی کیلئے پیغام آگیا

طارق فضل چوہدری کے مطابق وفاق کا نمائندہ گورنر بھی ہو سکتا ہے، یا کوئی اور شخص بھی ہو سکتا ہے جس کا اسی صوبے سے تعلق ہو۔

قبل ازیں ایک اور نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں بلکہ سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ایمرجنسی لگے گی۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کےلیے صوبائی اسمبلی سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کسی ایمرجنسی یا گورنر راج کی حمایت نہیں کرتی ہے۔

ادھر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا کہ خیبرپختونخوا میں اگر آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیدا ہوئی اور اس کے لیے مقررہ آئینی شرائط پوری ہوئیں تو ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔

انہوں نے کہا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین میں طریقہ کار بالکل واضح ہے اور اس معاملے میں آئینی تقاضوں کو ہی مدنظر رکھا جائےگا۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اگر حالات آئینی طور پر ایسے اقدام کا تقاضا کرتے ہیں تو پھر آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔

یہ بھی پڑحیں:سہیل آفریدی کی گنڈاپور سے ملاقات، شکوے شکایتیں، اندرونی کہانی سامنے آ گئی

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دی تھی، جسے اب 4 اکتوبر تک کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو کسی صورت اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائےگی۔