آزادکشمیر حکومت 6ماہ چلے گی،5سال میں6 حکومتیں آئیں گی، لطیف اکبر

مظفرآباد: سابق اسپیکر ، سینئر سیاستدان وپی پی رہنما چوہدری لطیف اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ آزادکشمیر کی موجودہ 6ماہ بھی نہیں چل سکے گی اور 5سال کے دوران 6 حکومتیں تبدیل ہونگی۔

چوہدری لطیف اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم 6نشستیں 6ماہ میں عدالتوں سے واپس لے کر دکھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیرکونسل الیکشن،چوہدری لطیف اکبر امیدوار نامزد

مظفرآباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ اسلام آباد حکومت یاد رکھے کہ دھاندلی کے ذریعے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان فرق ختم کیا جا رہا ہے، وفاقی حکومت کے اقدامات سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) ماضی میں بھی اپنے اقدامات کا خمیازہ بھگت چکی ہے، 2016 میں حکومت بنتے ہی تعلیم کے شعبے پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی جسے ہم نے روکا، اب بھی عوام کو بنیادی حق تعلیم اور صحت سے محروم کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ہدری لطیف اکبر نے کہا کہ پہلے علی امین گنڈاپور نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا، اب وفاقی وزراء نقصان پہنچا رہے بندوقیں اٹھا کر انتخابات لڑنا ایسے انتخابات قابل قبول نہیں جن میں کسی کی جان لے کر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایسی ایم ایل اے شپ بھی قبول نہیں جس کے لیے عوام پر ظلم کیا جائے یا پیسے، دھونس اور مبینہ دھاندلی کا سہارا لیا جائے۔

اگر لوگوں کو مارنے کے سرٹیفکیٹ دے کر اور لوگوں کو مروائیں گے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہم نے اصولوں کی سیاست کی ہے، صرف ایم ایل اے بننے کے لیے سیاست نہیں کی بلکہ لوگوں کو جوڑنے اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارشل لا کے دور میں بھی انتخابات ہوئے لیکن اس مرتبہ جس طرح کا الیکشن ہوا، نہ اس طرح کا الیکشن کبھی ہوا اور نہ اسے الیکشن کہا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ(ن) کو حکومت بنانے کا موقع دیا سکیورٹی کا انتظام ضروری تھا لیکن سکیورٹی کو سیکرٹریٹ میں بیٹھا دیا گیا اور حلقوں میں لوگوں کو گولیوں کے آگے چھوڑ دیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ ایک طرف پولنگ ہو رہی تھی جبکہ دوسرے حلقے میں انتخابی عمل کے لیے راستے بند ہونے کا جواز پیش کیا گیا، یہ سب الیکشن کمیشن کی مرضی سے ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مبینہ جعلی الیکشن کے خلاف عدلیہ میں چلے گئے ہیں، 6نشستیں واپس لے کر دکھائیں گے۔ مقدمات پانچ پانچ سال چلنے کے بجائے 6ماہ میں فیصلے ہوں گے اور انتخابی عمل کی فرانزک جانچ کرائی جائے تاکہ جعلی ووٹنگ سامنے آ سکے۔

سابق اسپیکر نے کہا کہ ہمیں مشکلات سے ڈرایا نہ جائے، کوئی ایسی جیل بتائیں جہاں ہم نہ رہے ہوں، ہم نے جیلیں اور تھانے بہت دیکھے ہیں ، ان عناصر کا پہلے بھی مقابلہ کیا اور اب بھی کرنا جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر حکومت کا بلدیاتی نظام لانے پر غور، الیکشن کمیشن کی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے نہ بھی بنوں تو کوئی مسئلہ نہیں، تاہم عوام کے حقوق پر ڈاکہ برداشت نہیں کیا جا سکتا ،موجودہ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے پیش گوئی کی کہ یہ حکومت چھ ماہ بھی نہیں چل سکے گی اور آئندہ پانچ سال کے دوران چھ حکومتیں تبدیل ہوں گی۔

انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ اپنا آئینی اور سیاسی کردار موثر انداز میں ادا کرے، سڑکوں پر آکر عوام کو ہم بتائیں گے کہ اپوزیشن کا کردار کیسے ادا کیا جاتا ہے۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے اور سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔