پی ایس سی بھرتیوں میں قواعد میں تبدیلی، امیدواروں کا شدیدتحفظات کا اظہار

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے تحت محکمہ ہائر ایجوکیشن میں اسسٹنٹ پروفیسرز (گریڈ 18) کی 60 سے زائد آسامیوں پر جاری بھرتی کے عمل کے حوالے سے امیدواروں نے قواعد میں تبدیلی اور اس کے اطلاق پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

​ذرائع کے مطابق مذکورہ آسامیوں کا اشتہار 2018ء میں جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد امیدواروں سے تحریری امتحان لیا گیا۔ بعد ازاں بھرتی کے مختلف مراحل، ٹیسٹ، انٹرویوز اور سلیکشن کا عمل آگے بڑھتا رہا۔

​متاثرہ امیدواروں کا مؤقف ہے کہ بھرتی کا عمل پہلے سے جاری ہونے کے باوجود بعد میں پبلک سروس کمیشن کی پالیسی میں تبدیلی کی گئی اور بعض آسامیوں کے لیے نئے قواعد کا اطلاق سابقہ اشتہار پر بھی کر دیا گیا۔

​ابتدائی طور پر تعلیمی قابلیت، تجربے اور دیگر متعلقہ اسناد کی بنیاد پر نمبرز دیے جانے تھے، تاہم قواعد میں تبدیلی کے بعد نمبرز کے طریقہ کار میں فرق پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں بعض ایسے امیدوار جو پہلے میرٹ لسٹ میں ٹاپ کر رہے تھے، بعد ازاں متاثر ہوئے۔

​خاص طور پر مختلف مضامین میں زیادہ نمبرز حاصل کرنے والے ٹاپ امیدوار شدید بے چینی کا شکار ہیں:

​فزکس: محمد شیمون 85 مارکس کے ساتھ ٹاپ پر ہونے کے باوجود منتخب نہیں ہو سکے، جبکہ ان کے مقابلے میں کم یعنی 58 اور 60 مارکس حاصل کرنے والے امیدوار (عبدالصمد، محمد ندیم جنجوعہ اور راجہ فہیم خان) ایڈجسٹ ہو گئے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کی علی امین گنڈا پور سے ملاقات، سابق وزیراعلیٰ کا سرمہری کا مظاہرہ

​اردو: فاضل نقوی میرٹ پر ٹاپر ہونے کے باوجود منتخب نہ ہو سکے، جبکہ ان سے کم مارکس حاصل کرنے والے تمام دیگر امیدواروں کو ایڈجسٹ کر لیا گیا۔

​انگلش: اسسٹنٹ پروفیسر انگلش میں زیادہ نمبرز حاصل کرنے والے ٹاپ امیدوار محمد زاہد خان کا انتخاب نہیں ہو سکا، جبکہ ان سے کم مارکس والے امیدواروں کو سلیکٹ کر لیا گیا۔

​متاثرہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ کسی جاری شدہ بھرتی کے عمل کے دوران قواعد تبدیل کرکے ان کا اطلاق اسی پرانے اشتہار پر کرنا امیدواروں کیلئے سنگین قانونی اور انتظامی سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق بھرتی کے آغاز کے وقت جو قواعد نافذ تھے، اسی فریم ورک کے تحت عمل مکمل کیا جانا چاہیے۔

​امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ پبلک سروس کمیشن معاملے کا ازسرنو جائزہ لے اور واضح کرے کہ نئے قواعد کو پرانے اشتہار پر کس قانونی اور انتظامی بنیاد پر لاگو کیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک بحریہ :بحیرہ عرب میں پہلی بار لائیو ویپن اینٹی شپ کروز میزائل کا تجربہ کامیاب

ان کا کہنا ہے کہ بھرتی کے عمل میں شفافیت، یکساں معیار اور میرٹ کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔

​متاثرہ امیدواروں نے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جائے تاکہ امیدواروں کے تحفظات دور ہو سکیں اور بھرتی کا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔

​امیدواروں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وہ اپنے قانونی و آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے سمیت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر غور کریں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پبلک سروس کمیشن جیسے اہم ادارے کے بھرتی کے عمل میں واضح قواعد، شفاف طریقہ کار اور تمام امیدواروں کے لیے یکساں معیار کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے، تاکہ مقابلے کے امتحانات میں امیدواروں کا اعتماد برقرار رہے۔