نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے خطاب کے آغاز پر امریکی وفد واک آؤٹ کر گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی صدر پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران میناب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے میں شہید طالبات کا تصویر دکھائی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی تہران سے بغداد اور مسقط جانیوالی تمام پروازیں منسوخ
ایرانی صدر نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر بھی دکھائی اور کہا کہ ہمارے رہنما کو جنگ کے پہلے روز بغیر کسی قصور کرکے قتل کیا گیا تھا۔
ایرانی صدر نے شرکا کو بتایا کہ امریکا نے کھیل کے میدانوں اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جس میں معصوم اور نہتے شہریوں کو قتل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ایران نے اپنے دفاع میں جو بھی کارروائی کی اس میں کبھی کسی شہری عمارت یا آبادی کو نشانہ بنایا۔
اس موقع پر ایرانی صدر نے امریکی ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا حالانکہ ایران نے خود آپ کی دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یہ حقائق رکھنے پر وہاں موجود امریکی وفد اٹھ کر ہال سے باہر چلا گیا تھا جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ امریکی وفد کو آئینہ دکھایا تو برا مان گئے، کسی نے لکھا کہ حقائق کا سامنا کرنے کے لیے بڑا ظرف چاہیے ہوتا ہے۔
ایرانی صدر نے امریکی وفد کے واک آؤٹ کرنے ک بعد بھی اپنی تقریر جاری رکھی اور ببانگ دہل کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن طاقت کی زبان قابل قبول نہیں، ایران گھنٹے نہیں ٹیکے گا نہ ہی اپنے جوہری حق سے دستبردار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:بڑی پیشرفت،امریکی اور ایرانی وفود کی نیویارک میں 3 گھنٹے طویل ملاقات
عالمی برادری کے دہرے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’اسرائیل قتلِ عام کرتا ہے اور پابندیاں ایران پر لگائی جاتی ہیں، یہ دہرا معیار ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی صدر جان لیں کہ دھمکیاں اور خطرات ایرانی قوم کو متحد کرتے ہیں۔




