آزادکشمیر : عدالتی نظام میں تبدیلی، سافٹ ویئرز اور ڈیجیٹل سسٹم منظور

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں عدالتی و انتظامی امور کی ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں سینئر جج عدالت عظمیٰ جسٹس رضا علی خان، جج عدالت عظمیٰ جسٹس خالد یوسف چوہدری، رجسٹرار عدالت عظمیٰ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

ڈائریکٹر آئی ٹی نے چیف جسٹس اور معزز ججز صاحبان کو عدالت عظمیٰ میں متعارف کرائے گئے اور زیرتکمیل جدید سافٹ ویئرز اور ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے بریفنگ دی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر:کالجز اور لائبریریوں میں 4249 کتب پرپابندی، میرواعظ کا اظہار تشویش

ان جدید نظاموں میں بالخصوص عوامی سہولت ڈیسک/پورٹل، انتظامی ڈیش بورڈ، کتب خانہ انتظامی نظام، اکاؤنٹس سافٹ ویئر، نیٹ ورک آپریشن مرکز اور ای عدالتیں شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ان جدید سہولیات کا مقصد عدالتی اور انتظامی امور کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور شفاف بنانا ہے، جبکہ وکلاء اور سائلین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا بھی ان اقدامات کا اہم مقصد ہے۔

چیف جسٹس نے اب تک ہونے والی ڈیجیٹل ترقی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اسے سراہا اور جدید سافٹ ویئرز اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال سمیت جاری منصوبوں کو مرحلہ وار مکمل کرنے کی منظوری دی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:خواجہ فاروق احمد ساتھیوں سمیت 15روز کیلئے نظربند،راڑہ جیل منتقل

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد وکلاء اور سائلین کے لیے روزانہ کی بنیادوں پر معلومات فراہم کرنے والے عوامی سہولت ڈیسک کا آغاز کر دیا جائے گا۔

انہوں نے ای ۔عدالتوں، ایل ای ڈی ڈسپلے نظام اور ای ۔پیپر بکس سمیت دیگر جدید اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں عدالت عظمیٰ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دی جائے گی۔

تاکہ وکلاء اور سائلین کو بروقت، آسان اور شفاف عدالتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اجلاس میں جاری آئی ٹی اصلاحات کو سینئر جج عدالت عظمیٰ جسٹس رضا علی خان کے وژن کے مطابق آگے بڑھانے اور مستقبل میں بھی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔