میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے انکشاف کیا کہ دہلی حکومت نے جموں و کشمیر کے کالجوں اور لائبریریوں سے 4,249 ایسی کتابیں، جنہیں ’’قابلِ اعتراض‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
میرواعظ عمرفاروق نے مذکورہ کتابوں کو لائبریریوں اور کالجز سے ہٹائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خواجہ فاروق احمد ساتھیوں سمیت 15روز کیلئے نظربند،راڑہ جیل منتقل
ان میں سے تقریباً 4,000 کتابیں صرف کشمیر کے تعلیمی اداروں سے ہٹائی گئی ہیں جیسا کہ حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں انکشاف کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے ایک پوسٹ میں میرواعظ عمرفاروق نے کہا کہ’’قانون ساز اسمبلی میں حکومت کی جانب سے یہ انکشاف کہ محکمۂ اعلیٰ تعلیم نے جموں و کشمیر کے کالجوں اور لائبریریوں سے 4,249 ’قابلِ اعتراض‘ کتابیں ہٹا دی ہیں۔
The disclosure by the Government in the Legislative Assembly that the Higher Education Department has withdrawn 4,249 “objectionable” books from colleges and libraries across J&K, with almost 4000 of them from Kashmir alone, is both disturbing and unfortunate. What exactly…
— Mirwaiz Umar Farooq (@MirwaizKashmir) September 23, 2026
جن میں سے تقریباً 4,000 صرف کشمیر سے ہیں، نہایت تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ آخر ان کتابوں میں ایسا کیا تھا جس کی بنیاد پر انہیں قابلِ اعتراض قرار دیا گیا؟
ان کتابوں کے عنوانات اور انہیں ہٹانے کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز اور کالجوں میں علمی و تعلیمی آزادی اور مختلف نقطہ ہائے نظر تک رسائی، تعلیم اور معاشرے کے فکری ارتقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن دھاندلی :جاوید بٹ ن لیگی امیدوار یٰسین لون کیخلاف الیکشن ٹربیونل پہنچ گئے،درخواست دائر
طلبہ کیا پڑھیں اور کیا نہ پڑھیں، اسے نظریاتی بنیادوں پر کنٹرول کرنے کی کوششیں علم، تحقیق اور تنقیدی سوچ کو محدود اور کمزور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کتابوں کو ہٹا کر منتخب حکومت آخر کس کا ایجنڈا نافذ کر رہی ہے — اپنا یا کسی اور کا؟ عوام اس بارے میں واضح جواب چاہتے ہیں۔‘‘
میرواعظ عمرفاروق نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور علم تک رسائی سے متعلق ایسے اہم معاملے میں مکمل شفافیت ناگزیر ہے اور لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کتابوں کو ہٹانے کا فیصلہ آخر کن بنیادوں پر کیا گیا




