اسلام آباد ( کشمیر ڈیجیٹل)امریکہ، چین و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اورسابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں چین کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں، بالخصوص پاکستان کے ساتھ اس کا تعاون اور امریکہ و ایران کے ساتھ رابطے، کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے عالمی سطح پر اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں بھی کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین حالیہ عرصے میں امریکہ ایران تنازعہ کے حوالے سے زیادہ فعال سفارت کاری کر رہا ہے اور بحیرہ احمر اور خلیج فارس میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے حالیہ سفارتی بیانات میں تحمل، مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سابق وزیراعظم فیصل راٹھور کی انتخابی کامیابی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر
سردار مسعود خان نے یاد دلایا کہ چین ماضی میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کر چکا ہے۔ مارچ میں چین اور پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کیلئے پانچ نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا جس میں فوری جنگ بندی، جلد از جلد امن مذاکرات، شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کا تحفظ، بحری راستوں کی سلامتی اور اقوام متحدہ کے منشور و بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر زور دیا گیا تھا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین کیساتھ روس اور یورپی ممالک سمیت دیگر اہم عالمی قوتیں بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کریں گی۔ ان کے مطابق متضاد بیانیوں اور تنازعہ سے متعلق مختلف الزامات کے باوجود مذاکرات کا عمل ناگزیر ہے۔
جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ ان معاملات کو تنازعہ کے سیاسی اور عسکری پہلوؤں سے الگ رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں احتجاج سے متعلق بعض الزامات جنگ سے پہلے کے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کے مختلف اعداد و شمار کے باعث حقائق کا تعین مشکل ہے۔
سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم سے متعلق بین الاقوامی عدالتی کارروائیاں شروع ہونے کی صورت میں حتمی فیصلوں تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور عدالتی فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد بھی ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جنیوا: کے پی آر آئی کا مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار
علاقائی سلامتی کے مستقبل کے ڈھانچے کے حوالے سے سردار مسعود خان نے کہا کہ ایک ممکنہ پیش رفت ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں باہمی انحصار میں اضافہ ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق چین، روس اور یورپی ممالک اس نوعیت کے علاقائی سلامتی کے نظام کی معاونت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے مشرق وسطیٰ سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا امکان نظر نہیں آتا، کیونکہ خطے میں اس کے تزویراتی، سلامتی، اقتصادی اور توانائی سے متعلق اہم مفادات موجود ہیں۔
تاہم ان کے بقول خلیجی ممالک اپنی سلامتی کی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر سکتے ہیں، کیونکہ وسیع عسکری تعاون اور بڑے پیمانے پر اسلحے کی خریداری کے باوجود علاقائی حملوں کے مقابلے میں ان کی کمزوریاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ موجودہ بحران کے نتیجے میں خطے میں باہمی تعاون اور زیادہ متنوع سلامتی کے ڈھانچے کی ضرورت کو تقویت مل سکتی ہے، تاہم دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے مسلسل سفارت کاری اور مذاکرات ناگزیر رہیں گے۔




