آزاد جموں و کشمیر کے 17 ویں وزیرِ اعظم کے طور پر بیرسٹر افتخار گیلانی نے اپنے عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ ایک طویل، متحرک اور وسیع سیاسی و پارلیمانی تجربہ رکھنے والی شخصیت ہیں جن کا آزاد کشمیر کی قانون سازی اور گورننس میں اہم کردار رہا ہے۔ 2011ء میں پہلی بار آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا رکن بن کر انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا اہم مرحلہ طے کیا۔
2016ء کے عام انتخابات میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر LA-26 مظفرآباد 3 سے کامیابی حاصل کی۔ اس انتخاب میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے 20 ہزار 506 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدِمقابل پاکستان تحریکِ انصاف کے خواجہ فاروق احمد 12 ہزار 90 ووٹ حاصل کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوری عمل کا تسلسل خوش آئند، افتخار گیلانی کا ریاستی ترقی میں اہم کردار ہوگا،شہبازشریف
محکمہ تعلیم میں میرٹ اور این ٹی ایس کا نفاذ:
مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہونے کے بعد بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیرِ تعلیم کا قلمدان سونپا گیا۔ بطور وزیرِ تعلیم انہوں نے محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے لیے این ٹی ایس (NTS) کے نظام کو متعارف کروایا اور تمام تر تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔
2021ء کے انتخابات اور ٹیکنو کریٹ نشست:
2021ء کے عام انتخابات میں بیرسٹر افتخار گیلانی نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر LA-29 مظفرآباد 3 سے انتخاب میں حصہ لیا۔ تاہم، عام نشست پر کامیابی نہ ملنے کے بعد پارٹی نے انہیں ٹیکنو کریٹ کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل کے شکرگزار، پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا، مریم نواز جیسی تبدیلی لائیں گے،بیرسٹر افتخار گیلانی
وزیرِ اعظم آزاد کشمیر منتخب:
بعد ازاں، بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کا انتخاب لڑے اور 30 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔ اس مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار عباسی صرف 14 ووٹ حاصل کر سکے۔



