نیپال میں تباہی سے 5 ماہ قبل سائنسی انتباہ، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

نیپال میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب سے محض چند ماہ قبل شائع ہونے والی 2 اہم سائنسی رپورٹس میں ہمالیائی خطے میں واقع گلیشیئرز کے انتہائی تیزی سے پگھلنے اور مستقبل میں شدید ترین سیلابی خطرات سے متعلق واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق مارچ 2026ء میں ہندوکش ہمالیہ کے خطے پر تحقیق کرنے والے بین الحکومتی ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) نے یہ اہم انکشاف کیا تھا کہ سال 1975ء کے بعد سے اس خطے کے گلیشیئرز کی برف کی موٹائی 27 میٹر تک گھٹ چکی ہے۔

گلیشیئرز کے رقبے اور برف کے ذخیرے میں کمی:

آئی سی آئی ایم او ڈی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1990ء سے 2020ء کے درمیانی عرصے میں ہندوکش ہمالیہ کے گلیشیئرز اپنے کل رقبے کا قریباً 12 فیصد جبکہ برف کے ذخیرے کا 9 فیصد حصہ کھو چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق سال 2000ء کے بعد سے اس خطے میں برف کے پگھلاؤ کی رفتار قریباً دوگنا ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال میں گلیشیئر ٹوٹنے سے خوفناک سیلاب، 800 سے زائد افراد لاپتہ، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

بلند علاقوں میں برفباری کے بجائے بارش کا تشویشناک رجحان

ماہرین ماحولیات کے مطابق نیپال میں حالیہ سیلاب کی حتمی وجوہات کی تحقیقات کا عمل تاحال جاری ہے۔ تاہم اس ضمن میں ایک انتہائی تشویشناک عنصر یہ سامنے آیا ہے کہ 4 ہزار میٹر یا اس سے بھی زائد بلندی پر واقع علاقوں میں اب برفباری کے بجائے بارش ہو رہی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث جن پہاڑی علاقوں میں ماضی میں برفباری ہوا کرتی تھی، وہاں اب شدید بارشوں سے گلیشیئرز تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔

2 ارب افراد پر اثرات اور زراعت کے خطرات:

سائنسی رپورٹس میں اس بات سے شدید خبردار کیا گیا تھا کہ ہندوکش ہمالیہ کے ان گلیشیئرز سے پگھل کر آنے والے پانی پر خطے کے قریباً 2 ارب انسانوں کی زندگی اور بقا کا انحصار ہے۔ ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں غیر معمولی تیزی اور برفانی خطے میں آنے والی یہ تبدیلیاں مستقبل میں پانی کی شدید قِلّت، زراعت کی تباہی اور سیلاب کے سنگین خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

چٹانوں اور ملبے کے ذخائر سے اچانک سیلاب کا خدشہ:

ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے اور سکڑنے کے عمل سے ان کے عقب میں بڑے پیمانے پر چٹانیں، مٹی، ریت اور دیگر قسم کا ملبہ جمع ہو جاتا ہے۔ مسلسل اور بے وقت بارشوں کی وجہ سے ان ملبے کے ذخائر کے اندر پانی جمع ہونے لگتا ہے، جس کے بعد کسی بھی لینڈ سلائیڈ یا دیگر قدرتی محرک کے نتیجے میں اچانک انتہائی تباہ کن سیلاب آنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

مزید پرھیں: نیپال سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں تھا ، امریکی ادارے کی وضاحت سامنے آ گئی