امریکی ماہرین نے غذائی تبدیلی سے ذیابیطس سے مکمل نجات کا طریقہ دریافت کر لیا

واشنگٹن: ہائی بلڈ شوگر (ذیابیطس ٹائپ 2) کو عموماً ایک ایسا دائمی اور لاعلاج مرض سمجھا جاتا ہے جسے محض ادویات اور پرہیز سے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر اب امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ درست غذائی تبدیلیوں سے اس عارضے سے مکمل نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل کیٹو ڈائٹ کا استعمال ذیابیطس ٹائپ 2 سے محفوظ رکھنے اور اسے ختم کرنے میں میڈیٹیرینین ڈائٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ غذائی عادت جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔

طبی تحقیق کا طریقہ کار اور مختلف غذائی پلانز

معروف طبی جریدے سیل میٹابولزم میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں موٹاپے، ہائی بلڈ شوگر اور جگر پر چربی کے شکار 42 افراد کو شامل کیا گیا۔ ماہرین نے ان افراد کو تین مختلف گروپس میں تقسیم کر کے 5 مہینوں تک مخصوص غذائی پلانز فراہم کیے، جن میں سے ایک گروپ کو کیٹو ڈائٹ، دوسرے کو میڈیٹیرینین ڈائٹ اور تیسرے کو کم چکنائی والی نباتاتی غذائیں دی گئیں۔ تحقیق کے اختتام پر کیٹو ڈائٹ استعمال کرنے والے تمام افراد ہائی بلڈ شوگر سے مکمل نجات پانے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ میڈیٹیرینین ڈائٹ سے محض ایک تہائی اور نباتاتی ڈائٹ والے گروپ کے صرف 7 افراد کو ہی شوگر سے نجات مل سکی۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوان خواتین میں شوگر ،ذیابیطس کا تیزی سے پھیلاؤ، نئی تحقیق نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

جگر کی چربی اور میٹابولک صحت پر مثبت اثرات

تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کیٹو ڈائٹ سے جسمانی وزن میں 10 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جگر پر موجود چربی کی سطح میں 67 فیصد تک حیران کن کمی دیکھی گئی، جو دیگر دو گروپس میں صرف 45 فیصد تھی۔ چوبیس گھنٹے سے زائد وقت تک خون کی نگرانی کرنے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ کیٹو ڈائٹ کے نتیجے میں جسم میں گلوکاگون نامی ہارمون میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جو جگر کی چربی کو تیزی سے گھلاتا ہے۔ محققین کے مطابق سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ کیٹو ڈائٹ استعمال کرنے والے افراد میں چربی کا استعمال زیادہ ہونے کے باوجود ان کے خون میں کولیسٹرول یا چکنائی میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔