ٹرمپ

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول، پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑے تیل معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکا کے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے، عالمی و ملکی سطح پر رسد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور امریکی شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمتیں طویل عرصے تک کم رہیں گی۔

امریکی صدر نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت امریکا کو اس ملک کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

امریکی ٹیکس دہندگان پر بغیر کسی بوجھ کے تاریخی پیشرفت:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ تاریخی معاہدہ امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر طے پایا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس اہم معاہدے کو ممکن بنانے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز اور نجی شعبے نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا سے تجارتی تنازع میں شدت، ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام بدل دیا

امریکا میں تیل کے ذخائر میں اضافہ اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ:

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس تاریخی معاہدے سے امریکا کے اپنے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے اور ملک میں تیل کی فراہمی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت کے نتیجے میں ’تمام امریکیوں کے لیے گیس کی قیمتیں طویل عرصے تک نمایاں طور پر کم‘ ہو جائیں گی جس کا براہِ راست فائدہ عام شہریوں کو پہنچے گا۔

مغربی نصف کرۂ ارض میں توانائی کی سلامتی اور 100 ارب ڈالر سرمایہ کاری:

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ایک ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں مغربی نصف کرۂ ارض میں مستحکم تیل کے ذخائر اور انتہائی کم لاگت والا تیل دستیاب ہوگا، جبکہ خود امریکا کے اندر بھی ایندھن کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔ مارکو روبیو کے مطابق وینزویلا کے اندر نجی شعبے کی جانب سے تقریباً 100 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے ہزاروں کی تعداد میں بہتر معاوضے والی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور وینزویلا کی معیشت کی بحالی میں بڑی مدد ملے گی۔

وینزویلا کے 17 اہم شعبوں کی ترقی اور معاشی بحالی:

دوسری جانب وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت نجی کمپنیوں کی شمولیت سے ملک کے اندر تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تیل کے 17 اہم اور بنیادی شعبوں کو ترقی دی جائے گی، جن میں مجموعی طور پر 65 ارب بیرل تیل کے ثابت شدہ امکانات موجود ہیں۔ روڈریگیز نے بتایا کہ ان تمام اہم منصوبوں میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو وینزویلا کی تیل کی صنعت کی مکمل بحالی اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی ترقی، خطے کی توانائی سلامتی اور عالمی تیل منڈی میں زیادہ توازن پیدا کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔

معاہدے کا طریقہ کار اور کنٹرول کی عملداری تاحال غیر واضح:

تاہم اس معاہدے کی مکمل تفصیلات خصوصاً یہ کہ امریکا کو ’اکثریتی کنٹرول‘ کس طریقے سے اور کن شرائط پر حاصل ہوگا، اور تیل کے ان تمام ذخائر و پیداوار پر اس نئے انتظام کے عملی اثرات کیا ہوں گے، فوری طور پر واضح نہیں کیے گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر کوئی ردِعمل یا جواب نہیں دیا گیا۔