مظفر آباد(کشمیر ڈیجیٹل)مسلم لیگ ن کے بیرسٹر افتخار گیلانی نے بطور وزیراعظم آزاد کشمیر حلف اٹھا لیا، قائم مقام صدر طارق فاروق نے عہدے کا حلف لیا۔
نو منتخب وزیر اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کا ایوان میں پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں ویسی تبدیلی لائیں گے جیسی مریم نواز پنجاب میں تبدیلی لائیں ۔
نو منتخب وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور خطے کی پائیدار ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار علی گیلانی نے کہا ہے کہ عوام، پارٹی اور قیادت نے جس اعتماد کے ساتھ انہیں وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری سونپی ہے، وہ اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دن رات محنت کریں گے,.
ضرورت پڑی تو 24 گھنٹے جاگ کر بھی اپنی ٹیم کے ساتھ ریاست کی تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے محدود وسائل اور گورننس سمیت درپیش چیلنجز کے باوجود حکومت کی اولین ترجیح نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی، معیاری تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات یقینی بنانا ہوگی۔۔
جبکہ تمام سیاسی قوتوں اور اسمبلی ارکان کے تعاون سے ایسا آزاد کشمیر بنانے کی کوشش کی جائے گی جس کی تعمیر و ترقی کی مثال دی جاسکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نو منتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بیروزگاری ایک اہم مسئلہ ہے، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں گے۔ آزاد کشمیر کو مثالی خطہ بنانے کیلئے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
وزیراعظم بیرسٹر افتخار علی گیلانی نے اپنی جماعت، قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہیں جو اعتماد دیا گیا ہے وہ اسے ایک بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پوری محنت اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ عوام اور قیادت کے اعتماد کو برقرار رکھا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل اور خطے کی تعمیر و ترقی کیلئے بھرپور کوشش کرے گی۔ہسپتالوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔
نو متخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کی مثال دی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح، میرٹ اور بہتر طرز حکمرانی کے ذریعے آزاد کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہیں ،یہ یو این قرارداوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے،
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں چیزیں بہتری کی طرف جائیں گی، عوام کے مسائل حل کریں گے اور عوامی شکایت کیلئے ڈیجیٹل سٹیزن پورٹل لانچ کریں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی رہنما اقبال پیرزادہ کی پارٹی رکینت ختم، نوٹیفکیشن جاری
نومنتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ خطے کی ترقی، شفاف حکمرانی اور میرٹ کی بالادستی ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیر اعظم افتخار گیلانی نے ایوان سے خطاب میں 2019کے بھارتی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو قانون سازی سے بھارت کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ کشمیر پاکستان کے بغیر ادھورااور پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے ۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افواج پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے شکر گزار ہیں، پاک فوج کی وجہ سے کشمیری سکون کی نیند سوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا چھوٹا سا خطہ ہے،گورننس کے مسائل ہیں، روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات کرینگے، ایک ایساآزاد کشمیر بنائیں گے جس کی مثال پوری دنیا دے گی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ، ہمیں آزادکشمیر کے ہسپتالوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ہماری حکومت میں آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کی مثال دی جائے گی۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کا سفر کسی ایک فرد یا جماعت کی کوشش سے مکمل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے ایوان میں موجود تمام ارکان کا تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد ہم سب کو مل کر آگے بڑھنا ہے، کابینہ اور اسمبلی کے ارکان کو ریاستی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اجتماعی طور پر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایسا آزاد کشمیر بنانا ہے جس کی گورننس، تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح کے حوالے سے مثال دی جاسکے۔ آزاد کشمیر رقبے اور آبادی کے اعتبار سے ایک چھوٹا خطہ ہے،
لیکن یہاں مسائل کم نہیں۔ گورننس کے مسائل موجود ہیں، بے روزگاری ایک اہم چیلنج ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بے روزگاری صرف آزاد کشمیر کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کو اس چیلنج کا سامنا ہے، تاہم حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی سطح پر بھرپور اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کی بالغ آبادی روزگار اس لیے چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرسکے، اپنی اولاد کو بہتر تعلیم دے سکے اور ضرورت کے وقت علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان بنیادی ضروریات کو اپنی ترجیحات کا مرکز بنانا ہوگا۔ روزگار کی فراہمی کیلئے ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع ملیں اور وہ مایوسی کا شکار ہوکر کسی غلط راستے کا انتخاب نہ کریں۔
نوجوانوں کو ایسا مستقبل دینا ہوگا جہاں انہیں محنت کا صلہ، عزت کے ساتھ روزگار اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہوں۔بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ تعلیم اور صحت بھی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہوں گی۔
ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کی حالت بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت روزگار، تعلیم اور صحت کے ان بنیادی شعبوں پر مؤثر توجہ دے تو عوام کو درپیش بہت سی مشکلات اور پریشانیاں کم کی جاسکتی ہیں۔




