کراچی: سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ 2024انتخابات کی دھاندلی کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں دہرایا گیا ہے جبکہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ردعمل میں حکومت سے علیحدہ ہونے اور گورنر ہائوس چھوڑنے کا کہہ دیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پنجاب اور وفاق میں فارم 47 کی حکومت کی یہ فارم 47 پلس کارروائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پونچھ والو! میں آرہا ہوں، کشمیر کے غیور ، بہادر عوام کو سلام ، بلاول کا ویڈیو پیغام
پیپلزپارٹی کو ہرانے کے لیے وفاق اور پنجاب حکومت کا گٹھ جوڑ تھا، 8فروری2024و جو کچھ ہوا،کشمیر میں دہرایا گیا، وہ فارم 47 کی حکومت تھی یہ اس سے بڑھ کر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ خیراتی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس دیکھی انکو کوئی پشیمانی نہیں ہوئی، وزرا کی پریس کانفرنس تکبر اور غرور تھا تاہم یہ تکبر زیادہ دیر چلنے والا نہیں، بچے بچے کو معلوم ہے کہ انتخابات کیسے ہوئے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیرانتخابات میں کارروائیاں سب نے دیکھی، میرپورڈویژن میں ہونےوالے انتخابات میں بھی شکایات الیکشن کمیشن کو دی گئیں تاہم الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا، چوری اوپر سے سینہ زوری،آپ دھاندلی کریں اور مانیں بھی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لہجہ گالم گلوچ والا نہیں ہوگا، ہم بدتمیزی نہیں کرتے، ہم دلیل کے ذریعے اورمتعلقہ فورم پر آواز اٹھائیں گے، ہم ان کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن کے بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ شرجیل میمن صاحب فارم 47 والی اس حکومت کو لات ماریں ، الگ ہو جائیں اور گورنر پنجاب کو کہیں کہ گورنر ہاؤس چھوڑ دیں۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی نے ہنگامہ آرائی کروائی، انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش کی: رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن صاحب میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو نہ کریں، اتنا آگے مت جائیں کہ پیچھے مڑنے کا راستہ نہ رہے، کشمیر کے لوگوں کو آپ کے رونے دھونے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ بات ہو گی تو اس کا برملا جواب دیا جائے گا، لیڈر شپ پر بات ہو گی تو اس کا بھی جواب ملے گا جس سسٹم کا آپ حصہ ہیں آپ اسی سسٹم کو ناکام کہہ رہے ہیں، اس سسٹم نے جو کام آپ کو سونپا وہ تباہی کا شکار ہے۔




