لاہور(کشمیر ڈیجیٹل) پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ آزاد کشمیر میں الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آ رہا ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنماندیم افضل چن نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے آج 15 سے زائد درخواستیں دائر کر دی ہیں کئی حلقوں میں پولنگ سٹاف اور سامان پہنچ ہی نہیں سکا،۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ بوتھ سے نکالا گیا ہے، ایک پارٹی کو اقتدار دلانے کیلئے یہ کیا جا رہا ہے، ہماری شکایات پر ن لیگ کا جواب نہیں آیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ن لیگ نے روش تبدیل نہیں کی،لطیف اکبر پر حملہ، ایک کارکن شہید ہوگیا، قمرزمان کائرہ
اُنہوں نے مزید بتایا کہ کل تک امن و امان کی صورت حال ٹھیک تھی، پیپلز پارٹی کی پوزیشن مضبوط تھی، اس وقت آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کا کردار مشکوک ہوگیا ہے۔
آزادکشمیر الیکشن کو صاف اور شفاف ماننا بہت مشکل ہو جائے گا، آدھا وقت گزر گیا لیکن ابھی تک کئی حلقوں میں پولنگ سٹاف نہیں پہنچا۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر شکایات کا ازالہ نہ ہوا تو الیکشن کے نتائج کو کوئی نہیں مانے گا، پہلے فیز کے بعد پارٹی میں بائیکاٹ کی بات ہو رہی تھی، ہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں، قیادت نے دانشمندانہ فیصلہ کیا، ابھی اطلاع آئی ہے کہ لطیف اکبر صاحب پر حملہ ہوا ، کارکن شہید ہوگیا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے، آپ ہوش کے ناخن لیں ورنہ ہم ان انتخابات کی توثیق نہیں کرسکیں گے، آزاد کشمیر کے انتخابات پر پوری دنیا کی نظر ہے، اس انتخابی عمل کو درست کیا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:لچھراٹ : پولنگ سٹیشن پر تصادم،جیالہ مشتاق شاہ جاں بحق، بلاول کی مذمت
ندیم افضل چن نے بتایا کہ پیپلز پارٹی میں دوسرے اور تیسرے مرحلے کے بائیکاٹ کی مضبوط رائے تھی، پارٹی قیادت نے بائیکاٹ کو مسترد کیا، ہم سیٹیں جیتنے کے لیے الیکشن نہیں لڑ رہے، ہم انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہتے، ہم بیلٹ سے تبدیلی چاہتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آ رہا ہے، ہم کسی صورت اس الیکشن کو آزادانہ اور شفاف نہیں مانیں گے، پیپلز پارٹی واحد جماعت تھی جو الیکشن کو سپورٹ کر رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ فرسٹ فیز میں بھی دھاندلی کی گئی، بعض پولنگ سٹیشنز پر بہت زیادہ پولنگ دکھائی گئی، ان کو پتہ تھا پیپلز پارٹی جیت رہی ہے، اس لئے مسائل پیدا کیے گئے۔




