مظفرآباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کا حلقہ کھاوڑہ میں پیپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد طے پا گیا اورجمعیت علماء اسلام کے امیدوار مولانا فیض الحسن پیپلزپارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
مولانا فیض الحسن نے جید علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کے حق میں دستبرداری کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ اتحاد کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: موٹیویشن سروس کیلئے این اوسی جاری کیا جائے،نیئر بخاری کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ آپ نے جس اعتماد کا اظہار کیا، اس پر آپ کا شکر گزار ہوں، اس اتحاد سے پیپلز پارٹی مزید مضبوط ہوئی ہے اور ہم حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے بھی شکر گزار ہیں۔
چوہدری لطیف اکبر نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے اس جانب بسنے والے کشمیریوں کو مایوس کیا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف یہاں آ کر کہتے ہیں کہ شہباز شریف مجھے یہاں وزیراعظم بنا دیںجبکہ نواز شریف کو ان کے بھائی نے وزیراعظم نہیں بننے دیا تو اس کا شکوہ یہاں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شریف خاندان میں سے ایک یہی بیروزگار ہے، جو اب یہاں وزیراعظم بننے کی بات کرتا ہے۔ ان کے بقول نواز شریف کی تقریر غیر سنجیدگی کی انتہا ہے۔
چوہدری لطیف اکبر نے مریم نواز کے اعلانات کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان بسوں میں بھی ان کا کوئی کمیشن ہوگا، یہ اپنے فائدے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں پرانی بسوں پر رنگ کر کے لایا گیا، بارش میں رنگ اتر گیا تو وہ پرانی نکلیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر سخت نوٹس لینا چاہیے کیونکہ انتخابی مہم کے دوران ایسے اعلانات نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق یہ کشمیریوں کا ووٹ خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، شاید انہیں تاریخ کا علم نہیں۔ کشمیریوں نے اپنی جانیں دے دیں مگر اپنے حقِ رائے دہی کا سودا کبھی نہیں کیا ۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف رٹ پٹیشن، بینچ نامکمل ہونے پر سماعت نہ ہو سکی
چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ یہ جعلی اعلانات کرتے ہیں، ساتھ یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ خطاب کہاں سے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے جلسے میں کتنے لوگ آئے، میڈیا اس کا گواہ ہے۔ لوگوں کو اچھی طرح علم ہو گیا ہے کہ یہ جعلی اعلانات کرتے ہیں، جبکہ گلگت میں بھی بڑے بڑے اعلانات کیے گئے تھے مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیا۔




