آزادکشمیر

چوہدری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف رٹ پٹیشن، بینچ نامکمل ہونے پر سماعت نہ ہو سکی

آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں حلقہ انتخاب سے اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی سماعت بینچ نامکمل ہونے کے باعث نہ ہو سکی۔ عدالت عالیہ نے اس اہم مقدمے کی باقاعدہ سماعت کو آگے بڑھانے کے لیے اب 24 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

مظفرآباد سے موصول ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کے انتخابی کاغذات کی منظوری کے معاملے پر قانونی کارروائی التواء کا شکار ہو گئی ہے۔ ہائی کورٹ میں مقدمہ باقاعدہ طور پر پیش کیا گیا تھا مگر بینچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے فریقین کے دلائل اور کیس پر مزید پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔

عدالتی بینچ کی عدم دستیابی اور سماعت کا التواء:

ذرائع کے مطابق یہ اہم کیس آج کی عدالتی فہرست میں باقاعدہ طور پر مقرر تھا، لیکن اس کے باوجود مطلوبہ عدالتی بینچ دستیاب نہ ہونے کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ بینچ کے نامکمل ہونے کی وجہ سے عدالت نے مقدمے کی فائل پر بغیر کسی بڑی پیش رفت کے سماعت کو مؤخر کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ہائیکورٹ میں راجہ فاروق حیدر کی پٹیشن باضابطہ سماعت کے لیے منظور

آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے اس رٹ پٹیشن کی باقاعدہ اور تفصیلی سماعت کے لیے اب 24 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جس روز اس اہم معاملے پر دوبارہ عدالتی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا اور پٹیشن کو قانون کے مطابق سنا جائے گا۔

درخواست گزار کی استدعا اور کاغذاتِ نامزدگی کا چیلنج:

اس دائر کردہ رٹ پٹیشن میں درخواست گزار نے اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کے حلقہ انتخاب سے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کو باقاعدہ طور پر چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست گزار نے اپنے قانونی موقف کے ذریعے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ ان کے کاغذات کی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے۔

اب آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ 24 جولائی کو مقررہ سماعت کے دوران تمام متعلقہ فریقین کے تفصیلی دلائل سنے گی۔ فریقین کے موقف اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت عالیہ کی جانب سے اس کیس کی آئندہ کی کارروائی سے متعلق حتمی فیصلہ صادر کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ہائیکورٹ آزادکشمیر، ایڈھاک ایکٹ 2026معطل،حکم امتناعی جاری