مودی کا مطالبہ مسترد،کاکروچ جنتا پارٹی کی ملک گیر احتجاج کی دھمکی

نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی نے پیپر لیک سے متعلق نریندر مودی کا بیان مسترد کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت میں پیپر لیک معاملے پر شروع ہونے والا احتجاج جاری ہے اور طلبہ نے اس حوالے سے گزشتہ روز آنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا کریک ڈاؤن، 3500کشمیری گرفتار، متعدد مکان مسمار

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومتی وفد کی کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماوں سے ملاقات ہوئی جس کےبعد ترجمان سی جے پی کا کہنا تھا کہ حکومت کو بتا دیا ہے کہ وزیرتعلیم مستعفی نہ ہوئےتو احتجاج بڑھتاجائےگا اور پھر ملک بھر میں احتجاج کی کال دیناہوگی۔

ترجمان کے مطابق حکومتی اراکین نے ایف آئی آر واپس لینے پر بھی آمادگی کااظہارکیا ہے جبکہ حکومت نے نوجوانوں کے مطالبات پر جواب دینے کے لئےکل دوپہر تک کا وقت مانگ لیا ہے۔

دوسری جانب بھارتی چیف جسٹس نے طلبا پر پولیس تشدد کی ویڈیوز دیکھنے سے انکار پر صفائیاں پیش کرنا شروع کردیں اور کہا کہ ان کے سامنے آئینی پٹیشن دائر نہیں ہوئی، صرف ایک وکیل کا خط آیا تھا اور وہ ایک وکیل کے خط کو آئینی پٹیشن تصور نہیں کرسکتے۔

بھارت میں مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے الزامات کے بعد طلبہ اور نوجوانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

متاثرہ امیدواروں کا موقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے بغیر نوجوانوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا ۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی طلباء کی احتجاجی تحریک ،پاکستانی سوشل میڈیا اکائونٹس کی بندش،مودی کا چہرہ بے نقاب

اسی تناظر میں مختلف طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کے گروپوں نے احتجاجی تحریک شروع کی جس کے دوران شفاف تحقیقات، امتحانات کے نظام میں اصلاحات ، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور متعلقہ حکام سے جواب دہی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

حالیہ مذاکرات کے باوجود فریقین کے درمیان مکمل اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا جس کے باعث احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔