جولائی 1931 سے شروع ہونے والی قربانیوں کی داستان آج بھی جاری،سید صلاح الدین احمد

13 جولائی 1931ء کے شہداء تحریکِ آزادی کشمیر کی دائمی علامت ہیں، ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ان خیالات کا اظہار متحدہ جہاد کونسل کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت حزب سر براہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیرمین سید صلاح الدین احمد نے کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین  نے کہا کہ 13 جولائی 1931ء کو سرینگر سینٹرل جیل کے باہر اذان دیتے ہوئے جام شہادت نوش کرنیوالے 22شہداء نے آزادی، عزت اور حق خودارادیت کی جو شمع روشن کی وہ آج بھی کشمیری عوام کیلئے مشعل راہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان شہداء نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ ظلم و جبر اور غلامی کسی بھی قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ 1931ء سے شروع ہونے والی قربانیوں کی یہ داستان آج بھی جاری ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شہید برہان مظفر وانی تحریک آزادی کی از سر نو احیاء کا باعث بنے : صلاح الدین احمد

کشمیری عوام نے ہر دور میں ظلم و ستم، گرفتاریاں، تشدد، جبری گمشدگیاں اور دیگر بدترین ہتھکنڈوں کا سامنا کیا، مگر اپنے بنیادی حق خودارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے اقدامات، خصوصاً آبادی کے تناسب، زمینوں، ڈومیسائل قوانین اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں، ریاست کی تاریخی اور آبادیاتی ساخت کو متاثر کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ ان اقدامات پر عالمی سطح پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں بھارتی جیلوں میں قید کشمیری سیاسی رہنماؤں، علماء، خواتین، نوجوانوں اور دیگر محبوسین کی حالت زار پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ متعدد قیدی طویل عرصے سے مختلف مقدمات اور حراستوں کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق اور طبی سہولیات سے متعلق خدشات بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔

ظلم و جبر کی یہ المناک داستان صرف مقبوضہ جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ خود بھارت کے طول و عرض میں آج ہر طرف 1931 کی طرح کے ہولناک منظر دُہرائے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے۔

گائے کے نام پر، لو جہاد کے نام پر اور قومی سلامتی کے جھوٹے دعووں کے تحت دن دیہاڑے قتل عام ہو رہا ہے۔ مساجد ، مدارس ، خانقاہوں اور گھروں کو عدالتی چادر اوڑھ کر مسمار کیا جا رہا ہے۔

پوری آبادیوں کو مشکوک قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نفرت کی آگ کو ٹی وی چینلوں، اسمبلیوں اور سڑکوں پر بھڑکایا جا رہا ہے۔ قاتلوں کو پھولوں کے ہار پہنائے جا رہے ہیں ۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاسبان حریت نے بھارت کے ظلم وجبر کو کھلی ریاستی دہشت گردی قرار دے دیا

مقتولوں پر ہی الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ خود اپنے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ یہ ایک منظم، سوچی سمجھی اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والی سازش ہے جو مسلمانوں کو نہ صرف مقبوضہ جموں کشمیر بلکہ ہندوستان  میں اجنبی، دوسرے درجے کا شہری اور خطرہ بنا کر پیش کر رہی ہے۔

اجلاس میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں،دنیا بھر کے دانشوروں،انسانیت کے علمبرداروں سےاپیل کی گئی کہ وہ اس صورتحال کے تدارک کیلئے مؤثر اقدامات کریں۔

متحدہ جہاد کونسل نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)  پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کشمیری عوام کے مستقبل سے متعلق بھی ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے عملی کردار ادا کریں۔

اجلاس میں حکومت پاکستان اور عوام کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو سفارتی، سیاسی اور قانونی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کرنے کی کوششیں مزید مضبوط کی جائیں تاکہ کشمیری عوام کی آواز عالمی فورمز تک زیادہ موثر انداز میں پہنچ سکے۔

اجلاس کے اختتام پر 13 جولائی 1931ء کے شہداء سمیت تحریکِ آزادی کشمیر کے تمام شہداء کی بلندی درجات کی دعا کی گئی اور اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ تاریخ میں عظیم قربانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں ۔۔

کشمیری عوام اپنے اسلاف کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھتے ہوئے حصول منزل تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔