بنگلہ دیش : طوفانی بارشیں،لینڈسلائیڈنگ، 44 افراد جاں بحق،متعدد لاپتہ

ڈھاکہ(کشمیر ڈیجیٹل)بنگلہ دیش میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 44افراد جاں بحق جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوگئے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں چٹوگرام، کاکس بازار، بندربن، رنگامٹی، کھاگڑاچھڑی، مولوی بازار اور حبی گنج شامل ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:انتخابی مہم عروج پر،شہروں میں بینرز ،بورڈز آویزاں،سیاسی ماحول گرم

طوفانی بارشوں کے باعث متعدد افراد لاپتہ ہوگئے جبکہ سڑکیں اور پل تباہ ،ہزاروں گھر زیرِ آب آ گئے اور امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

حکام کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار گھرانے سیلاب سے براہِ راست متاثر ہوئے۔ بنگلہ دیشی فوج، بحریہ اور دیگر امدادی ادارے کشتیوں کے ذریعے خوراک، پینے کا پانی اور طبی امداد دور دراز علاقوں تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی نے بچوں اور خواتین کو بطور ڈھال استعمال کیا،ترجمان حکومت

کاکس بازار میں واقع روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں،مسلسل بارش کے باعث مزید مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ برقرار ہے، جس کے پیشِ نظر حساس علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔

سیلاب کی پیش گوئی اور وارننگ سینٹر نے کہا کہ بنگلہ دیش اور اپ اسٹریم ہندوستانی ریاستوں میں شدید بارش اگلے تین دنوں کے دوران ندیوں کو خطرے کی سطح سے اوپر لے جا سکتی ہے،

جس سے بندربن، کاکس بازار، فینی، کھگراچھڑی، سلہٹ، سنم گنج، مولوی بازار، حبیب گنج، نیتروکونا، شیرپور، میمن سنگھاٹ، رالنگ پور کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ لکشمی پور اور نواکھلی کے نشیبی حصے بھی خطرے میں ہیں۔

کئی اہم ندیوں، جن میں سانگو، ماتامہوری، تیستا، مانو، کھوئی، سومیشوری اور جاڈوکاٹا شامل ہیں، میں تیزی سے اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، کچھ کے ساتھ بارش جاری رہنے کی صورت میں خطرے کی سطح کو عبور کرنے کی توقع ہے۔

طویل بارش نے ٹرانسپورٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہوں کے کچھ حصے دب جانے کے بعد بندربن کے ساتھ سڑک کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جب کہ سیلاب نے بندربن-تھانچی سڑک کے کچھ حصے بند کر دیے ہیں اور چٹاگانگ اور کاکس بازار کو ملانے والے راستوں پر سفر میں خلل پڑا ہے۔