بھارتی فورسز کے اندرونی اختلافات، سسٹم کی ناکامی اور لاقانونیت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ضلع کشتواڑ کے علاقے آتھولی میں 17 راشٹریہ رائفلز (RR) کے اہلکاروں کی جانب سے مقامی پولیس اسٹیشن پر حملے اور توڑ پھوڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس نے بھارتی سیکیورٹی ڈھانچے کے نظم و ضبط کا پول کھول دیا ہے۔
واقعے کا پس منظر اور ایف آئی آر کا تنازع:
ذرائع کے مطابق چند روز قبل مقامی پولیس نے بھارتی فوج کے ایک میجر اور لیفٹیننٹ کرنل کے خلاف قانونی ضابطوں کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی تھی ۔ فوجی افسران کے خلاف اس کارروائی پر راشٹریہ رائفلز کے اہلکار شدید غصے اور رنج کا شکار تھے۔ اسی کا بدلہ لینے کے لیے بھارتی فوج کے بدحواس اہلکاروں نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے تھانہ آتھولی پر دھاوا بول دیا۔
تھانے پر حملہ اور مارپیٹ کے مناظر:
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 17 راشٹریہ رائفلز کے اہلکار لاٹھیوں اور اسلحے سے لیس ہو کر زبردستی پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔ فوجی اہلکاروں نے وہاں موجود پولیس عملے پر تشدد کیا، مارپیٹ کی اور تھانے میں شدید توڑ پھوڑ کر کے صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا۔
ناقدین اور مبصرین کی آراء:
سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں بڑھتے ہوئے تشدد، انتہا پسندی اور انتظامی لاقانونیت کی ایک بدترین مثال ہے۔ مودی دورِ حکومت میں ملک میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون چل رہا ہے، جہاں ریاستی ادارے ہی ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔
دوسری طرف دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان سے ملنے والی مسلسل ہزیمت اور ناکامیوں نے بھارتی فوج کے اوسان خطا کر دئیے ہیں۔ اس شدید نفسیاتی دباؤ اور بوکھلاہٹ کا بدلہ بھارتی فوج کبھی معصوم شہریوں پر تشدد کر کے اور کبھی اپنے ہی سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا کر لے رہی ہے۔ آتھولی پولیس اسٹیشن کا یہ واقعہ اسی گرتی ہوئی ساکھ اور اندرونی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔




