کالعدم ایکشن کمیٹی مظفرآبادمیں عوام کو اکھٹا کرنے میں ناکام رہی،پروفیسر امجد بٹ

مظفرآباد(کشمیرڈیجیٹل)پروفیسر امجد بٹ بھی ایکشن کمیٹی پہ برس پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد میں دھرنا کیوں نہیں دیا؟

ان کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ مظفرآباد کے جو لوگوں کی بڑی تعداد سرکاری ملازمین کی ہے۔

پروفیسر امجد بٹ کا کہنا تھا کہ مظفرآباد کے لوگوں کی بڑی تعداد سول سروس میں نہیں مگر مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں اورمختلف سیاسی جماعتوں کے زیرسایہ جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیصل جمیل کاشمیری نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں

پروفیسر امجد بٹ کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی عوامی حقوق کیلئے ایکشن کمیٹی کا حصہ بن گئے تھے لیکن ریاست مخالف بیانیہ کے بعد یہ کارکنان بھی آہستہ آہستہ ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اظہار کرنے لگے ۔

سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ الیکشن کا بگل بجتے ہی الیکشن مہم کا حصہ بن گئے اور عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنے سے پیچھے ہٹ گئے ۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد میں دھرنا اس لئے نہیں دیا کہ یہاں لوگوں کی اکثریت اپنے کاروبار، سرکاری نوکری ، سیاسی اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور یہاں لوگوں نے کسی دھرنےیا احتجاج میں شرکت نہ کرنا تھی۔ اس لئے راولاکوٹ کا انتخاب کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:صدر انجمن تاجران شوکت کھوکھر کا کالعدم ایکشن کمیٹی لاتعلقی کا اعلان

ان کا مزید کہنا تھا کہ مظفرآباد شہر میں ایکشن کمیٹی عوام کو اکھٹا کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ مظفرآباد کے لوگ بڑے سلجھے ہوئے ، سیاسی شعور اور تعلیم یافتہ ہیں ، تھوڑ پھوڑ اور افراتفری سے گریزاں ہیں ۔

مظفرآباد کے لوگ سیاست کرتے ہیں اور پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں تو اس لیے ایکشن کمیٹی مظفرآباد میں لوگوں کو اکٹھا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔