گلگت بلتستان حکومت سازی، ن لیگ نے اڑھائی سال مانگ لئے، پی پی کا آج اہم اجلاس طلب

گلگت بلتستان میں حکومت سازی پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کی اہم ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں نے اپنی تجاویز پی پی رہنمائوں کے سامنے رکھ دی ہیں۔

گزشتہ روز ہونیوالی ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں نیئر حسین بخاری، قمر زمان کائرہ، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ اور صدر پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ شامل تھے۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران امیر مقام اور صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے شرکت کی۔ملاقات میں حکومت سازی سے متعلق مختلف تجاویز اور ممکنہ سیاسی تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا، جبکہ ملکی اور قومی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں حکومت سازی ونمبر گیم، رانا ثنااللہ نے بڑا دعویٰ کردیا

دونوں وفود نے اتفاق کیا کہ حکومت سازی سے متعلق اپنی تجاویز مرکزی قیادت کے سامنے پیش کی جائیں گی ۔

پیپلز پارٹی کے وفد کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو سب سے بڑی جماعت بنا کر گلگت بلتستان کی قیادت کا واضح مینڈیٹ دیا ہے۔

وفود نے اتفاق کیا کہ حکومت سازی سے متعلق تمام فیصلے جمہوری اصولوں، سیاسی مشاورت اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) نے پیپلزپارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے پاس واضح اکثریت ہے نہ ہی مسلم لیگ(ن) کے پاس لہذا شراکت اقتدار کے تحت ڈھائی، ڈھائی حکومت کی جائے اور5سال میں دو وزرائے اعلیٰ لائے جائیں۔

پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ ہم آزادامیدواروں کو شامل کرکے سادہ اکثریت حاصل کر لیں گے دوسری طرف مسلم لیگ(ن) بھی آزادامیدواروں سے رابطے کررہی ہیں، حکومت سازی کا معاملہ 15جون کو 4نشستوں کے کچھ پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ کے بعد ہی کلیئر ہوگا۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے الزام لگایا ہے کہ وفاقی وزراء حکومتی مشینری کے ذریعے جی بی الیکشن کے نتائج بدلنا چاہتے ہیں۔

اپنے ویڈیو بیان میں ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور اسحاق ڈار نے پیپلز پارٹی قیادت کو مبارکباد دی۔ 7 جون کو ہونے والے انتخابات کا آج تک مکمل نتیجہ نہیں آیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کی پالیسی وزیر اعظم کی پالیسی سے ہٹ کر ہے؟ وزیراعظم نے بڑے دل کے ساتھ مبارکباد دی اور پیپلز پارٹی کی جیت کو تسلیم کیا۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ وفاقی وزراء 15 تاریخ کی ڈیڈلائن دے رہے ہیں کہ اس تاریخ کو نتائج تبدیل ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج جمعہ طلب کرلیا ہے، جس کی صدارت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے جہاں پارلیمانی پارٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن،پیپلزپارٹی کے سب سے زیادہ ووٹ، آزادامیدواروں کا دوسرانمبر

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، جی بی کے لوگوں کو یقین دلائیں کہ ان کے مینڈیٹ کو تحفظ دیا جائے گا۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ وزراء کے بیانات قابل افسوس ہیں، اس سے نقصان ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) اپنے وزراء کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے روکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن)کے رہنما راناثنااللہ نے کہا تھا کہ جی بی میں نمبر گیم 15جون کے بعد سامنے آئیگی اور ہمیں 2سے 3نشستیں مل جائینگی جس کے بعد مسلم لیگ(ن) بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔