وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27کیلئے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج جمعہ کو پیش کیا جائے گا۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور ٹیکس کی شرح میں کمی مد میں50 ارب روپے تک کا ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ ٹیکس ریلیف دینے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا آئندہ بجٹ میں عوام،کاروباری برادری کو ریلیف دینے کا بڑا فیصلہ
بجٹ سے متعلق وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے طلب کرلیا گیا ہے، پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی جس میں ملازمین کی تنخواہوں میںاضافہ بھی شامل ہوگا
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔
بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔
بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز ہے بڑی گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ جبکہ مقامی سطح پر تیار الیکٹرک وہیکلز سستی ہونے کی امید ہے تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر معمول کے ٹیکس برقرار رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے صوبوں کو ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی پر منالیا،بجٹ منظوری کی راہ ہموار
مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کیلئے موٹرز، بیٹریز اور دیگر پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
سیلز ٹیکس بھی ایک فیصد رکھنے کی سفارش ہے جبکہ فیڈرل ایکسائز،کیپٹل ویلیو اور ودہولڈنگ ٹیکس کی مکمل چھوٹ کی تجویز کی گئی ہے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔
قرضوں پر سود کیلئے7 ہزار 824 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دفاعی شعبے تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے آئندہ مالی سال تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
زراعت کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقرر۔ صنعتیں 4 فیصد کی شرح سے ترقی کریں گی جبکہ بڑی صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد جبکہ خدمات کی کارکردگی 4.2 فیصد رہنے کا تخیمنہ ہے۔حکومت روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ ،صنعتی شعبے میں 5 لاکھ اورزرعی شعبے میں 4 لاکھ ملازمتوں کا ہدف رکھا گیا ہے قومی اقتصادی کونسل آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے اہم معاشی اہداف کی منظوری بھی دے چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی کا ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد اضافے کا مطالبہ،بجٹ کاشیڈول تبدیل
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی بھی تجویز ہے آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات اور انفورسمنٹ کے ذریعے ایک ہزار ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کئے جانے کا امکان ہے ۔



