سکیورٹی ذرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں مجموعی صورتحال پرامن رہی جبکہ تمام اہم شاہراہیں، بازار اور تجارتی مراکز معمول کے مطابق کھلے رہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی احتجاجی کال کو مسترد کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے ۔ ایک واقعہ راولاکوٹ کے علاقے کھائی گلی میں پیش آیا جہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق ہو گیا،دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ عمر نذیر تاحال مفرور بتایا جاتا ہے ۔
دوسرا واقعہ ڈھل چیک پوسٹ پر پیش آیا جہاں جے اے اے سی سے منسلک مسلح افراد نے 14 پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق قریبی آبادی میں جانی نقصان سے بچنے کیلئے اہلکاروں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور جوابی کارروائی سے گریز کیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاجی کال کو خاطر خواہ عوامی حمایت نہ ملنے کے بعد جے اے اے سی کے مرکزی رہنما روپوش ہو گئے ہیں اور اب حکومت سے رابطوں کی کوششیں کر رہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد گرفتار
رپورٹس کے مطابق تتہ پانی، شہید چوک، ہجیرہ، عباس پور، تراڑ کھل، بلوچ اور گوئی سمیت سات مقامات پر محدود اجتماعات دیکھنے میں آئے جن میں زیادہ سے زیادہ 80 سے 100 افراد شریک تھے۔ بعد ازاں یہ اجتماعات منتشر ہو گئے۔ جنازہ گاہ اور سی ایم ایچ کے اطراف ایک بڑا مجمع بھی جمع ہوا تاہم وقت گزرنے کیساتھ اس کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک تقریباً 79 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ کارروائیوں کے دوران 17 سب مشین گنز، 25 پستول، بڑی مقدار میں گولہ بارود اور کیلوں سے جڑی لاٹھیاں برآمد کی گئی ہیں ۔ اسکے علاوہ بھارتی سمز والے موبائل فونز سمیت مواصلاتی آلات بھی قبضے میں لیے گئے ہیں جنہیں فرانزک تجزیےکیلئے بھجوا دیا گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق یرغمال اہلکاروں کی محفوظ بازیابی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور دیگر حکام کی جانب سے مذاکرات جاری ہیں تاہم اگر یہ کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو متبادل سکیورٹی اقدامات بھی زیرغورہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پلندری ، عوامی ایکشن کمیٹی کا پولیس چوکی پر حملہ، متعدد اہلکار یرغمال بنا لئے
سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض عناصر سوشل میڈیا پر گمراہ کن اطلاعات پھیلا رہے ہیں جبکہ صورت حال پر متعلقہ ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں ۔




