نوسیری : شرپسند عناصر کے گھروں پر حملے ،خواتین پر تشدد، پولیس بھی حملہ آوروں سے مل گئی

نوسیری (کشمیر ڈیجیٹل) غریب اور بے بس عورتیں اپنی فریاد لے کر پریس کلب پہنچ گئیں۔ اپنے ہی خاندان کے رشتے داروں نے گھروں پر حملہ کر کے مردوں عورتوں اور بچوں کو زخمی کر دیا۔

زخمی فیملیز کو بجائے انصاف فراہم کرنے کے پولیس نے متاثرین کو ہی حراست میں لے لیا۔ تھانے میں بند بھی کیا متاثرہ عورتوں میں ایک کا سر پھٹ گیا، ایک عورت کی آنکھ پر مکا مارا اور ایک عورت کے پورے جسم پر خون جم گیا ، حالت تشویشناک۔

نوسدہ میں پیش آنے والے حالیہ تنازعے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد متاثرہ خاندان نے پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ خاندان کے مطابق ان کے گھر پر مبینہ طور پر 30سے زائد افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں خواتین اور مرد زخمی ہوئے، تاہم پولیس نے حملے میں ملوث افراد کیخلاف نہ تو مقدمہ درج کیا اور نہ ہی انہیں تفتیش کیلئے طلب کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ ایران کیخلاف دوبارہ جنگ نہیں چاہتے، امریکی اخبار کا دعویٰ

خاندان کا دعویٰ ہے کہ اس کے برعکس ان کے زخمی مردوں اور خواتین کے خلاف مقدمات درج کر کے انہیں تھانے میں بند کر دیا گیا۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانبداری اس وقت مزید واضح ہوئی جب مبینہ حملہ آور آزادانہ طور پر گھومتے رہے جبکہ حملے کا نشانہ بننے والے خاندان کے افراد قانونی کارروائی کا سامنا کرتے رہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بجائے یکطرفہ کارروائی کی گئی جس سے انہیں انصاف نہ ملنے کا احساس پیدا ہوا ہے۔

متاثرہ خاندان نے وزیراعظم آزاد کشمیر، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا غیر جانبدارانہ نوٹس لیا جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سینٹرل بار اور پریس کلب کی حکومت اور ایکشن کمیٹی کو ثالثی کی پیشکش

مبینہ حملہ آوروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق تفتیش کا حصہ بنایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

خاندان کا کہنا ہے کہ وہ قانون اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام فریقین کے مؤقف کو سامنے رکھتے ہوئے شفاف تحقیقات کی جائیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ الزامات متاثرہ خاندان کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے پولیس یا متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔