نئی دہلی میں طلبہ پر وحشیانہ طاقت کا استعمال بھارتی فوج کے تشدد میں ملوث ہونے کا ثبوت

ٍنئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

ہزاروں طلبہ امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچے لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر نکلےجہاں بھارتی فوج نے نہتے طلبہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا نورین خان کے بیانئے کو مودی کے حق میں استعمال کرنے لگا

بھارتی فوج نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

بھارتی فوجی اہلکار کی جانب سے نہتے طلبہ اور خاص کر طالبات پر بے دریغ ڈنڈے برسائے جا رہےہیں جسکی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کر رہے تھے، تاہم انہیں طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی۔

طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے بعض حلقوں نے بھارتی فورسزکی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام کیا جائے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے میجر جنرل سمیت 20 فوجی افسران کا کورٹ مارشل، بھاری رشوت کا انکشاف

حکومت کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم احتجاج کرنے والے طلبہ کا مؤقف ہے کہ صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اصلاحات اور جوابدہی ضروری ہے

۔ تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاجی تحریک مختلف مقامات پر جاری ہے اور فریقین کے بیانات میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔