مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر بار کونسل،سنٹرل پریس کلب اور سنٹرل بار ایسو سی ایشن مظفرآباد کا حکومت آزاد کشمیر اور عوامی جائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرت دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ اور ثالثی کی پیشکش۔
حکومتِ آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری کشیدگی اور 9 جون کو ریاست گیر احتجاج کی کال کے تناظر میں کسی بھی ممکنہ تصادم، جانی و مالی نقصان سے بچنے کیلئے وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی نے عملی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین سے تحمل، بردباری اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کر دی۔
جبکہ تنازع کے پرامن حل کے لیے دونوں فریقین کو ثالثی کی پیشکش بھی کر دی گئی۔عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ددطرفہ سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ریاست ماں کی طرح ہے جس پر زیاہ بھاری ذمہ داریاں عائد ہو تی ہیں۔
اس امر کا اظہار آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون ریاض ایڈووکیٹ،صدر سنٹرل پریس کلب سہیل مغل،صدر سنٹرل بار ایسو سی ایشن راجہ ضیغم افتخار اور معروف صحافی وتجزیہ نگار سید خالد گردیزی نےطویل مشاورتی نشست کے بعد سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس شروع؛ مہاجرین کی نشستوں پر گرما گرم بحث متوقع
انہوں نے کہا کہ گزشتہ احتجاج میں انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچا اب دوبارہ ریاست اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔حکومت آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی ڈیڈ لاک ختم کرتے ہوئے بامقصد مذاکرات کا راستہ ہموار کریں۔
کسی بھی قسم کے مسائل کا حل صرف مذاکرتی عمل میں ہی مضمر ہے۔حکومت اور ایکشن کمیٹی روایوں میں نرمی لاتے ہوئے عوامی مفاد کے پیش نظر مل بیٹھیں۔اس سلسلہ میں آزاد کشمیر بار کونسل،سنٹرل پریس کلب مظفرآباد اور سنٹرل بار ایسو سی ایشن مظفرآباد تمام اضلاع میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں ْ۔۔
آزاد کشمیر بھر میں وکلاء اور صحافتی برداری کے نمائندے موجود ہیں جو موجودہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس امر کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
یہ وقت ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کا نہیں بلکہ انسانی جانوں،سرکاری ونجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ طرز عمل ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ایک دفعہ پھر مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے کر مطالبات حل کیلئے درمیانی راستہ نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بار کونسل، سنٹرل پریس کلب اور سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ایک بار پھر حکومت آزاد کشمیر، عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ عوام کے وسیع تر مفاد، خطے کے امن اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے فوری طور پر مذاکراتی عمل بحال کریں ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مفت کھانےکا چکر: خاتون کا پلیٹ میں بال ڈال کر نیا کھانا طلب،انتظامیہ نے چوری پکڑ لی
موجودہ کشیدہ صورتحال کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ ریاستی ادارے اور فورسز بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جبکہ عوام بھی ریاست کی اصل طاقت ہیں، اس لیے دونوں کو آمنے سامنے لانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
”فورسز بھی ہماری ہیں اور عوام بھی ہمارے اپنے ہیں، لہٰذا کسی بھی ایسے ماحول سے بچنا ضروری ہے جو تصادم کو جنم دے۔ تمام اختلافات اور مسائل کا حل صرف مذاکرات، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یہ وقت ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ انسانی جانوں، عوامی مفادات اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا ہے۔
تمام متعلقہ فریقین ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کا قابل قبول حل تلاش کریں تاکہ خطے میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی برقرار رہے۔ دنیا بھر میں پیچیدہ سیاسی اور عوامی مسائل کا حل مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن بنایا جاتا ہے،۔
اس لیے تصادم کے بجائے مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مصالحتی کمیٹی میں ٹی وی جے کے صدر آصف رضا میر،سابق سیکرٹری جنرل سنٹرل پریس کلب بشارت مغل سمیت آزاد کشمیر بھر کے صحافی اور وکلاء برداری کردار ادا کرے گی۔




