تصور کریں کہ آپ کسی ہوٹل میں گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں اور پکوان میں بال نکل آئے تو کیا کریں گے؟ بیشتر افراد کراہت محسوس کریں گے اور فوری طور پر ہوٹل انتظامیہ سے شکایت کریں گے۔
مگر اس صورتحال میں کیا ہوگا جب کھانے والے فرد نے ہی پکوان میں بالوں کو شامل کیا ہو تاکہ مفت ڈش حاصل کرسکے؟ ایسا ہی کچھ برطانیہ کے ایک ریسٹورینٹ میں ہوا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس؛ سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی
ایک سی سی ٹی وی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک خاتون نے اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کا کھانا کھاتے اپنے سر کے بال کو توڑ کر ایک ڈش میں ڈال دیا۔
فوٹیج میں دکھایا گیا کہ خاتون نے پہلے بال کو پلیٹ میں ڈالا اور پھر ایک ویٹریس کو بلا کر اس ڈش کو بدلنے کی درخواست کی۔
ریسٹورینٹ کے مطابق عملے نے خاتون کو نئی ڈش فراہم کی جسے یہ خاندان بعد میں گھر لے گیا کیونکہ وہ پہلے ہی کافی کھا چکا تھا۔
مگر سی سی ٹی وی ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد ریسٹورینٹ کی جانب سے کہا گیا کہ خاتون نے بال کو خود ڈش میں ڈالا تھا اور پھر اس فوٹیج کو آن لائن شیئر کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت نے مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کر دیا
فیس بک پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ریسٹورینٹ نے لکھا کہ ایک خاتون نے اپنے بچے کی ڈش میں ایک بال کو دریافت کرنے کی شکایت کی اور عملے نے فوری طور پر نئی ڈش خاتون کو فراہم کی۔
پوسٹ کے مطابق خاتون نے تبدیل کی جانے والی ڈش کو قبول کیا مگر اسے گھر لے گئیں کیونکہ بچہ پہلے ہی اپنا پیٹ بھر چکا تھا۔
پھر سی سی ٹی وی فوٹیج سے کھانے میں بال کی موجودگی کی وجہ معلوم ہوئی اور یہ بھی بتایا کہ وہ خاتون کیچیپ کی ایک بوتل، ایک آئسکریم باؤل اور ایک چائے کا چمچ بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ ہم اپنے صارفین کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ چمچ یا کیچیپ ہمارے ٹیک اوے مینیو کا حصہ نہیں۔ یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے
بیشتر افراد کی جانب سے ریسٹورینٹ کے ردعمل کو سراہا ہے۔



