مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں امن و امان اور سیکیورٹی کے انتظامات کا جنازہ نکل گیا۔ سینٹرل جیل مظفرآباد میں قتل اور چوری جیسے سنگین مقدمات میں قید دو انتہائی خطرناک قیدی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو جل دے کر بخشی خانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اس ہائی پروفائل واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس انتظامیہ اور جیل حکام میں شدید کھلبلی مچ گئی ہے اور اعلیٰ حکام نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، فرار ہونے والے قیدیوں کی شناخت شہریار بھٹی اور خورشید کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ دونوں ملزمان سینٹرل جیل مظفرآباد میں سنگین جرائم، بشمول قتل اور چوری کے مقدمات کے تحت عدالتی ریمانڈ اور قید کاٹ رہے تھے۔آج انہیں ضابطے کی کارروائی اور عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے سے قبل بخشی خانے میں رکھا گیا تھا، جہاں انہوں نے موقع پا کر انتہائی ہوشیاری سے سیکیورٹی کا مضبوط حصار توڑا اور وہاں سے بحفاظت بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: وزیر اعظم ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس جاری، اہم سیاسی شخصیات شریک
خطرناک قیدیوں کے سرِعام فرار ہونے کے بعد مظفرآباد پولیس فوری طور پر متحرک ہو گئی ہے۔ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں، پلوں اور حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے سخت ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ مشکوک گاڑیوں اور افراد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خصوصی ٹیموں نے مفرور قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری کے لیے مختلف ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارنے اور وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کو بہت جلد دوبارہ گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: آل پارٹیز کانفرنس: مکالمے، استحکام اور عوامی مسائل حل کی جانب ایک قدم
اس چونکا دینے والے واقعے نے دارالحکومت کے جیل مینوئل، عدالتی احاطے اور بخشی خانے کے سیکیورٹی انتظامات پر انتہائی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ قتل کے مقدمے میں ملوث قیدیوں کی نگرانی میں اس سطح کی غفلت ناقابلِ برداشت ہے۔عوام کا سوال ہے کہ آیا یہ واقعہ محض ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی لاپرواہی اور کمزور گرفت کا نتیجہ ہے، یا پھر اس کے پسِ پردہ قیدیوں کو بھگانے کے لیے کسی قسم کی اندرونی ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کارفرما ہے؟ ان تمام حقائق کا درست تعین ایک اعلیٰ سطح کی، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔
جیل اور پولیس حکام نے واقعے کی باقاعدہ انکوائری شروع کر دی ہے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔




