آزاد کشمیر میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک کی کال کے بعد شہریوں کو کم از کم ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت نے ریاست بھر میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔
عوام الناس کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی، مذہبی، تجارتی، علمی و ادبی حلقوں، قانون دانوں، مزدور تنظیموں، ٹرانسپورٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس اعلان کو غیر ذمہ دارانہ، خوف و ہراس پھیلانے والا اور عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عام شہریوں اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا خدشہ:
مختلف شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مہاجر نشستوں کے انتخابات اور ان سے متعلق سیاسی معاملات کا آزاد کشمیر کے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے، اس کے باوجود پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنا کسی طور مناسب عمل نہیں ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایک ماہ کا راشن جمع کرنے کی اپیل اور سیاحوں کو ریاست سے واپس چلے جانے جیسی ہدایات نے عام لوگوں میں بے چینی، اضطراب اور ممکنہ بحران کا تاثر پیدا کیا ہے جس سے مارکیٹوں، کاروباری مراکز اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کریں گے؟ وزیراعظم آزاد کشمیر کو تحریری جواب !
قانونی ماہرین اور تاجر برادری کے سنگین تحفظات:
قانونی ماہرین اور سینئر وکلاء نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اعلانات نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں بلکہ ریاست کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ بڑے پیمانے پر راشن ذخیرہ کرنا شروع کر دیں تو مصنوعی قلت، مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی کمی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان دیہاڑی دار طبقے، مزدوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ہوگا۔ دوسری جانب تاجر برادری کے نمائندوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات اور اعلانات سے آزاد کشمیر بھر میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق ریاست بھر میں ایک لاکھ سے زائد تاجر اور ان سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ ہے، جبکہ غیر یقینی فضا پیدا ہونے سے مارکیٹیں سنسان اور کاروبار مفلوج ہو سکتے ہیں۔ تاجروں نے واضح کیا کہ احتجاج ہر شہری اور تنظیم کا آئینی حق ہے، تاہم ایسے اقدامات سے اجتناب کیا جانا چاہیے جو معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچائیں۔
محنت کش طبقے اور سیاحتی شعبے کا شدید ردعمل:
دیہاڑی دار مزدوروں، رکشا ڈرائیوروں، بائیکیا رائیڈرز، سوزوکی ڈرائیوروں، اخباری صنعت سے وابستہ ہاکروں، میڈیا ورکرز، اخباری مالکان اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس اعلان کو اپنے معاشی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ محنت مزدوری کر کے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے والے افراد ایک ماہ کا راشن خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور ایسے بیانات زمینی حقائق سے لاعلمی اور عام آدمی کی مشکلات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان پوسٹوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے جن میں آزاد کشمیر آنے والے سیاحوں کو واپس جانے یا سفر مؤخر کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی معیشت کا بڑا حصہ سیاحت سے وابستہ ہے اور اس قسم کی مہمات سے نہ صرف سیاح خوفزدہ ہوتے ہیں بلکہ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور مقامی کاروبار کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: مظفرآباد مذاکرات: وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی میں ڈیڈ لاک، مذاکراتی عمل تعطل کا شکار
حکمتِ عملی پر ازسرنو غور کرنے کا مطالبہ:
علمی، ادبی اور سماجی حلقوں کے نمائندگان نے کہا کہ کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی کا دارومدار عوامی اعتماد اور ذمہ دارانہ قیادت پر ہوتا ہے۔ اگر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی واقعی عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے تو اسے ایسے بیانات اور ہدایات سے اجتناب کرنا چاہیے جو ریاست میں افرا تفری، بے یقینی اور نفسا نفسی کی کیفیت پیدا کریں۔ مختلف حلقوں نے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی حکمتِ عملی اور بیانات کا ازسرنو جائزہ لے، عوامی مشکلات اور معاشی حقائق کو مدنظر رکھے اور ایسی ہدایات جاری کرنے سے گریز کرے جن سے ریاستی ماحول متاثر ہونے اور عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اختلافِ رائے اور احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال میں ریاستی استحکام، عوامی مفاد اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔




