کیا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندگان آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کریں گے؟ وزیراعظم آزاد کشمیر کو تحریری جواب !

دارالحکومت مظفرآباد میں بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے ایک نئی انتظامی و سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اس مشاورتی اجلاس میں شرکت کا باقاعدہ دعوت نامہ ارسال کیا گیا تھا، جس کے جواب میں عوامی ایکشن کمیٹی نے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے آفیشل لیٹر کے مطابق، کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کی جانب سے وزیراعظم کو ایک باقاعدہ خط ارسال کیا گیا ہے۔ خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے آل جماعتی مشاورتی اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا تھا، تاہم اس حوالے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے سابقہ موقف پر قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس تھوڑی دیر بعد شروع ہوگی

خط میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ 30 مئی کو ہونے والے مذاکرات کے دوران حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر کی جانب سے دی گئی تجویز کو کمیٹی نے اپنے دلائل کی بنیاد پر قبول کرنے سے معذرت کی تھی۔ ایکشن کمیٹی کے مطابق، موجودہ انتظامی و بنیادی حقوق کے ڈھانچے کے تناظر میں اس مرحلے پر مشاورتی عمل کا حصہ بننا ان کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔

تحریر کردہ جواب کے مطابق، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس کل جماعتی اجلاس میں عدم شرکت کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ کمیٹی نے خط کے متن میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اور دیگر ذمہ داران کی جانب سے 14 اکتوبر 2025ء کو طے پانے والے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوششوں کو ترجیح دی جائے گی۔