موسمیاتی تبدیلیاں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہیں، سیکرٹری ہلال احمر

مظفرآباد :سیکرٹری ہلال احمر آزاد کشمیر محترمہ گلزار فاطمہ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اس صدی کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں گرمی کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے نبردآزما ہونے کے لیے مؤثر اور جامع منصوبہ بندی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفرآباد میں ہیٹ ویو کے عالمی دن کے موقع پر ہلال احمر کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک خصوصی آگاہی واک کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ہیٹ ویو کا عالمی دن اور رواں سال کا تھیم:

یاد رہے کہ ہر سال 2 جون کو دنیا بھر میں ہیٹ ویو (گرمی کی شدید لہر) کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا آغاز عالمی سطح پر سال 2022ء میں ہوا تھا۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت، اس سے ہونے والے نقصانات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے پبلک لیول پر شعور بیدار کرنا ہے۔ رواں سال یہ دن “Indoor Heat and Health Risk” (انڈور ہیٹ اینڈ ہیلتھ رسک) کے موضوع اور عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، جس کے تحت مختلف عالمی ادارے اور تنظیمیں سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں میں شعور اجاگر کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی و ہیٹ ویو کی پیشگوئی، گلیشائی جھیلیں پھٹنے کا بھی الرٹ جاری

ہلال احمر آزاد کشمیر کی آگاہی واک اور بازاروں میں مہم:

اسی سلسلے میں ہلال احمر آزاد کشمیر کے زیرِ اہتمام مظفرآباد میں گرمی کی شدت، بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ایک آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں ادارے کے اسٹاف اور رضاکاران کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ واک کے دوران ہلال احمر کے رضاکاران نے شہر کی مختلف مارکیٹوں اور بازاروں کا رخ کیا جہاں انہوں نے عام شہریوں اور دکانداروں کو گرمی کی حالیہ لہر سے محفوظ رہنے کے طریقے بتائے۔ اس موقع پر رضاکاران نے میگا فون کا استعمال کرتے ہوئے بازاروں میں باقاعدہ اعلانات بھی کیے۔

جنگلات کی کٹائی کے نقصانات اور متاثرہ طبقات:

سیکرٹری ہلال احمر گلزار فاطمہ نے ماحولیاتی بگاڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات اور درختوں کی بے دریغ کٹائی کے باعث موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں، جس سے نہ صرف انسان بلکہ چوپائے، پرندے، فصلیں اور دیگر تمام جاندار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرمی کی شدت انسانی صحت پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتی ہے، اور ایسی صورتحال میں بزرگ شہری، حاملہ خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے گھروں، سرکاری و نجی عمارتوں اور کام کی جگہوں کو ہوادار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شدید موسمی اثرات کے اثر کو کم کیا جا سکے۔

شہریوں کے لیے اہم احتیاطی تدابیر:

سیکرٹری ہلال احمر نے عوام الناس سے پرزور اپیل کی کہ وہ شدید گرمی کے دوران درج ذیل احتیاطی تدابیر پر لازمی عمل کریں:

  • شہری شدید دھوپ میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔
  • جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔
  • گرمی کے موسم میں ہلکے، سوتی اور کھلے کپڑوں کے استعمال کو ترجیح دیں۔
  • اگر کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلنا ناگزیر ہو، تو چھتری کا استعمال لازمی کریں۔

آگاہی واک کے اختتام پر ہلال احمر آزاد کشمیر کے ذمہ داران اور شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے ایسی معلوماتی سرگرمیاں مستقبل میں بھی جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرمی کی اس حالیہ لہر اور مستقبل کے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عام شہریوں کو بھی شجرکاری مہم کا حصہ بن کر اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہو کر اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: گرمی کا زور ٹوٹ گیا! آزاد کشمیر سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری