مظفرآباد مذاکرات: وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی میں ڈیڈ لاک، مذاکراتی عمل تعطل کا شکار

مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس کے بعد مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

30 مئی 2026 کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے تین اہم ادوار منعقد ہوئے ہيں۔ ان مذاکراتی نشستوں میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور، صدر مسلم لیگ (ن) شاہ غلام قادر، سیکرٹری جنرل طارق فاروق اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت حال، انتخابی معاملات اور دیگر مطالبات کے حوالے سے فریقین کے مابین اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے انتخابات مقررہ وقت پر منعقد کیے جائیں گے، وفاقی وزراء کا عزم

مذاکرات کا ماحول اور نشستوں پر ڈیڈ لاک کی وجہ:

ذرائع کے مطابق تینوں ادوار میں مذاکرات خوشگوار ماحول میں جاری رہے اور فریقین نے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ تاہم، مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ڈیڈ لاک پیدا ہونے کے بعد یہ مذاکراتی عمل ناکام ہو گیا اور ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہو گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہونا مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ بتائی جا رہی ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اور لانگ مارچ کی کال:

مذاکرات کی ناکامی کے فوری بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے شرکت کر کے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 جون کو دی گئی لانگ مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جائے اور عوام کو اس میں شرکت کی ہدایت کی جائے۔ ایکشن کمیٹی نے اپنےاجلاس میں واضح کیا کہ 9 جون کی کال بدستور برقرار رہے گی اور یہ ایک بڑا عوامی مارچ ہوگا، تاہم کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے اور اگر سنجیدہ پیشرفت ہوئی تو آئندہ بھی بات چیت کا عمل جاری رکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی میں مذاکرات کامیاب ہونگے:شوکت جاوید میر

وفاقی نمائندوں کا موقف اور انتخابی عمل کا عزم:

دوسری جانب، وفاقی نمائندوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ موجودہ تعطل کے باوجود مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خطے میں سیاسی استحکام اور تمام فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے کی فضا قائم کی جا سکے۔ اس موقع پر وفاقی وزراء نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات مقررہ وقت پر ہی منعقد کیے جائیں گے اور انتخابی عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جائے گی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت مذاکراتی عمل کو بحال کرنے یا ان معاملات کے حل کے لیے آئندہ کیا سنجیدہ اقدامات کرتی ہے۔