ہٹیاں بالا(کشمیر ڈیجیٹل/عمر بھٹی راجپوت) ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن ضلع جہلم ویلی کے ملازمین کی زیر قیادت سید ذوالفقار حسین کاظمی صدر ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن ضلع جہلم ویلی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے مکمل کام چھوڑ ہڑتال جاری۔۔۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا سے حاجی شاہ چوک تک ملازمین نے ایک بھرپور احتجاجی ریلی نکالی، جس میں ضلع بھر سے محکمہ صحت کے مرد و خواتین ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی،
شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز،پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ ریلی کے دوران وزیر صحت، سیکرٹری مالیات اور سیکرٹری صحت کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی گئی۔۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن ضلع جہلم ویلی سید ذوالفقار حسین کاظمی، ساجد عظیم چوہدری، فیصل اور دیگر مقررین نے کہا کہ محکمہ صحت کے ملازمین گزشتہ ایک سو دس دنوں سے ٹوکن ہڑتال کر رہے تھے
مزید یہ بھی پڑھیں:منی لندن میرپور میں لگژری گاڑیوں کیساتھ تقریبات توجہ کا مرکز بن گئیں
لیکن حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں کی گئی جس کے باعث اب مکمل ہڑتال کا آغاز کیا جائےگا۔
جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اس وقت تک ہڑتال جاری رہے گی، احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا،
آج سے مکمل ہڑتال کے باعث صرف ایسے مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی جو انتہائی ایمرجنسی کی حالت میں ہوں گے جبکہ دیگر مریضوں کا معائنہ نہیں کیا جائے گا،۔۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت، متعلقہ حکام کی بے حسی کے باعث محکمہ صحت کے ملازمین شدید مشکلات کا شکار ہیں، بارہا توجہ دلانے کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔
اگر ہڑتال کے دوران کسی قسم کی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوتی ہے یا عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر صحت، سیکرٹری مالیات اور سیکرٹری صحت پر عائد ہوگی۔
ملازمین اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار۔ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا،
مزید یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری! ہاؤس سیلنگ الاؤنس میں 85 فیصد کا بڑا اضافہ
رہنماؤں نے اعلان کیا کہ 4 جون کو تمام مرد و خواتین ملازمین صحت ایک بڑی ریلی کی صورت میں مظفرآباد کی جانب مارچ، اسمبلی گھیراو ،سمیت تمام آپشن استعمال کرینگے اور اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے،۔۔۔
اگر حکومت نے فوری طور پر مطالبات منظور نہ کیے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت، ہسپتالوں کو تالے لگانے سمیت آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔
مقررین نے حکومت، منتخب نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوانوں تک پہنچے ہیں اس لیے عوامی ملازمین کے مسائل حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔۔
اگر ملازمین کے جائز مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو آئندہ انتخابات میں صحت ملازمین اور ان کے خاندان اپنے ووٹ کی طاقت سے جواب دیں گے، متعلقہ وزراء اور منتخب نمائندے حلقوں میں آ کر ملازمین کے مسائل کا سامنا کریں۔۔
عملی اقدامات کریں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ملازمین ہر حلقے میں بھرپور احتجاج کریں گے، اپنے مطالبات کے حق میں جمہوری، قانونی انداز میں عوامی رابطہ مہم چلائیں گے۔۔۔
مقررین کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے ملازمین عرصہ دراز سے اپنے جائز حقوق اور مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں لیکن متعلقہ حکام مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔۔
انہوں نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ صحت کے شعبے میں پیدا ہونے والی بے چینی کا خاتمہ ہو اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے،۔۔۔
احتجاجی ریلی کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے، آئندہ بھی متحد ہو کر ہر سطح پر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے
جبکہ ریلی کے دوران مختلف مقامات پر مطالبات کے حق میں اور محکمہ صحت کے ملازمین سے اظہار یکجہتی کے نعرے بھی لگائے گئے۔



