جے ڈی وینس

جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ نہیں ہوا مگر امریکا اور ایران معاہدے کے قریب ہیں ، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع سے متعلق ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تاہم دونوں ممالک ممکنہ مفاہمت کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں اور متعدد اہم نکات پر پیشرفت جاری ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مرحلے پر کسی معاہدے کی منظوری دینےکیلئے ابھی تیار نہیں ہیں، کیونکہ مذاکرات کا عمل ابھی جاری ہے اور کچھ اہم معاملات پر مزید پیش رفت درکار ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت یا کسی باضابطہ معاہدے پر کب دستخط کریں گے، کیونکہ حتمی منظوری کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے ۔

امریکی نائب صدر کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ دونوں فریق اب بھی چند اہم نکات پر مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ کسی قابل قبول فریم ورک تک پہنچا جا سکے ۔

جے ڈی وینس نے اس موقع پر ایران کے جوہری پروگرام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکا ایسی پوزیشن میں موجود ہے جہاں وہ تہران کے جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے یا اسے پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

ان کے مطابق امریکا خطے میں استحکام اور سلامتی کے حوالے سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف سفارتی اور تزویراتی اقدامات پر کام کر رہا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران سے مذاکرات کررہے ہیں، اسلام آباد ٹاکس میں زبردست پیشرفت ہوئی، جے ڈی وینس

دوسری جانب امریکی میڈیا میں اس سے قبل ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا اور ایران جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ایک ممکنہ معاہدے کے بنیادی خدوخال پر متفق ہو چکے ہیں۔

تاہم ان رپورٹس کے مطابق اب تک نہ تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نہ ہی ایرانی قیادت نے اس مجوزہ سمجھوتے کی باضابطہ منظوری دی ہے ۔

امریکی نیوز ویب سائٹس کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت یا جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی اور عسکری تنازع کے آغاز کے بعد سب سے اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی ۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کئی امور پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات اور سیاسی رضامندی ضروری ہوگی ۔

ادھر خطے کی مجموعی صورتحال بدستور کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کو محدود کر رکھا ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے ۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی ایرانی بندرگاہوں پر معاشی اور عسکری دباؤ میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث خطے میں سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی قیادت اور ثالثی کے کردار کو سراہا

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مذاکرات کی رفتار اور سیاسی فیصلے اس پورے معاملے کی سمت متعین کریں گے۔