تہران (کشمیر ڈیجیٹل) ایران نے یمن کے حوثی گروپ کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو وہ بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے باب المندب کے قریب میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے ہیں اور صرف حملے کے حکم کے منتظر ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شہبازشریف کی پیٹرول کی قلت پیدا کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ باب المندب بند کرنے کے کسی بھی فیصلے کی نگرانی یمن میں موجود ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے کریں گے۔
ایران کے دو سینئر حکام اور ایک علاقائی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ پیغام حوثیوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمدی راستے بیک وقت متاثر ہو جائیں گے، جس سے عالمی توانائی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
جون میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب اپنے تیل کی بڑی مقدار بحیرۂ احمر کے راستے منتقل کر رہا ہے، جس سے باب المندب کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرینگے ،ایرانی صدر کا ٹرمپ کو ردعمل
اندازوں کے مطابق اس وقت عالمی توانائی کی تقریباً 7 فیصد ترسیل باب المندب اور بحیرۂ احمر کے راستے ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حوثی بحری جہازوں یا بندرگاہوں کو نشانہ بناتے ہیں تو عالمی تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماضی میں غزہ جنگ کے دوران بھی حوثیوں کے حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہاز افریقہ کے گرد طویل سمندری راستے سے گزارنا شروع کر دیے تھے، جس سے نقل و حمل کی لاگت اور سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھ گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی سپلائی کے اہم متبادل راستے کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔




