سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد پر ہونے والی دراندازی کی دو بڑی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے 13 خوارج کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں مؤثر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی وزیرستان، افغانستان کی سول آبادی پر گولہ باری،8زخمی، نقصانات کی تفصیلات جاری
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع مہمند میں سرحد پار سے دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔
سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے گروہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ خوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
اسی طرح شمالی وزیرستان میں بھی پاک افغان سرحد پر دراندازی کی ایک اور کوشش کو ناکام بنایا گیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید 5 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:انگور اڈہ: افغان طالبان کا بزدلانہ حملہ، 4 بچوں ،خاتون سمیت5 افراد زخمی،پاک فوج کا منہ توڑ جواب
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغان حکومت اپنے شہریوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور علاقے میں موجود مزید خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ، 22 خوارج جہنم واصل
ترجمان پاک فوج کے مطابق عزم استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف مہم پوری رفتار سے جاری ہے اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ دراندازی کی کوشش کے علاوہ سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے سول آبادی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہےجس میں 8معصوم شہری زخمی ہوئے ہیں۔




